
اگر پورا جسم موجود ہو صرف سر نہ ہو تو ایسی تصویر کا کیا حکم ہے؟ جان دار کی تصویر خواہ مجسمہ ہو یا موبا ئل کیمرا یا ڈیجیٹل کیمرا وغیرہ سے بنائی جائے تو ایسی تصاویر کا کیا حکم ہے؟ غیر جان دار کی تصاویر کا کیا حکم ہے؟ جلسوں میں سکرین پر براہ راست ویڈیو بنانا کیسا ہے ؟کسی دینی غرض سے ٹی وی چینل پر بیان دینا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ جان دار کی تصاویر بنانایا مجسمہ بنانا یا موبائل کیمرہ یا کسی اور آلہ کے ذریعہ سے محفوظ کرنا یا جلسوں میں سکرین پر پروگرام ویڈیو بنانا یا کسی بھی غرض سے ٹی وی چینل پر ویڈیو بیان دینا شرعاً جائز نہیں ہے ،البتہ غیر جان دار اشیاء کی تصاویر بنانا جائز ہے ۔
اور اگر جان دار کی ایسی تصویر ہو جس میں صرف اس کا جسم موجود ہو اورسر کٹا ہوا ہو تو یہ تصویر کے حکم میں داخل نہیں ہے ، سر اور شکل ہی تصویر کا ترجمان ہے،لہذا اس کا بنانا جائز ہوگا ۔
البحر الرائق میں ہے :
"(قوله أو مقطوع الرأس) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق لها أثر أو يطليه بمغرة ونحوها أو بنحته أو بغسله وإنما لم يكره لأنها لا تعبد بدون الرأس عادۃ."
(كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:2، ص:30، دارالكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے :
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا. وظاهر قوله فينبغي الاعتراض على الخلاصة في تسميته مكروها."
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:647، سعيد)
فقہ السیرۃ للشیخ محمد سعید رمضان البوطی میں ہے:
"قلت: ويستشكل الناس حكم الصور الفوتوغرافية اليوم: هل هي في حكم الرسوم والصور التي ترسم وتخطط بمهارة اليد، أم لها حكم آخر؟
وقد فهم بعضهم من علة التصوير التي ذكرها النووي فيما نقلناه من كلامه أن التصوير الفوتوغرافي ليس في حكم الرسم باليد، إذ العمل الفوتوغرافي لا يقوم على أي مهارة في الصنعة أو اليد، بحيث تتجلى فيها محاولة المضاهاة بخلق الله تعالى، إذ هو يقوم على تحريك بسيط لناحية معينة في جهاز التصوير، يتسبب عنه انحباس الظل في داخله بواسطة أحماض معينة؛ وهي حركة بسيطة يستطيع أن يقوم بها أي طفل صغير والحق أنه لا ينبغي تكلف أي فرق بين أنواع التصوير المختلفة حيطة في الأمر، ونظرا لإطلاق لفظ الحديث. نقول هذا على سبيل التورع والحيطة، أما الخوض في حقيقة حكمه الشرعي فيحتاج إلى بحث ودراسة مفصلة.
هذا فيما يتعلق بالتصوير أما الاتخاذ فلا فرق بين الفوتوغرافي وغيره، فيما يبدو. والله أعلم."
(القسم السادس: الفتح ...، فتح مكة، سادسًا۔۔۔۔تأملات في ما قام به النبي صلى الله عليه وسلم، ص: 281، ط: دار الفكر)
تکملۃ فتح الملہم میں ہے:
"ولكن كثيرا من علماء البلاد العربية، وجلهم أو كلهم في البلاد الهندية قد أفتوا بأنه لافرق بين الصورة المرسومة والصورة الشمسية في الحكم."
(باب تحريم تصوير صورة الحيوان، حكم الصورة الشمسية، ج:4، ص:97، ط: دار القلم)
وفیه ایضًا:
"قال الشيخ مصطفى الحمامي في كتاب "النهضة الإصلاحية": وإني أحب أن تجزم الجزم كله أن التصوير بآلة التصوير (الفتوغرافية) كالتصوير باليد تماما، فيحرم على المؤمن تسليطها للتصوير.... إلخ."
(باب تحريم تصوير صورة الحيوان، حكم الصورة الشمسية، ج:4، ص:97، ط: دار القلم)
آپ کے مسائل اور اُن کا حل میں ہے:
”ٹی وی اور ویڈیو پر اچھی تقریریں سننا
س… ہم کو اس قدر شوق ہوا کہ ہم جہاں بھی کوئی اچھا بیان ہوتا ہے وہاں پہنچ جاتے ہیں، اور یہاں تک ویڈیو کیسٹ پر بھی کسی عالم کا بیان اچھا ہوتا ہے تو بیٹھ کر سنتے ہیں اور خاص کر جمعہ کو ٹی وی پر جو پروگرام آتا ہے، اس کو بھی سنتے ہیں، لیکن ہم کو کسی نے کہا کہ یہ جائز نہیں، لہٰذا میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ بتائیں یہ جائز ہے یا ناجائز؟
ج… ہماری شریعت میں جان دار کی تصویر حرام ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی ہے، ٹیلی ویژن اور ویڈیو فلموں میں تصویر ہوتی ہے، جس چیز کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حرام اور ملعون فرما رہے ہوں، اس کے جواز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان چیزوں کو اچھے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، یہ خیال بالکل لغو ہے۔ اگر کوئی اُمّ الخبائث (شراب) کے بارے میں کہے کہ اس کو نیک مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے تو قطعاً لغو بات ہوگی۔ ہمارے دور میں ٹی وی اور ویڈیو اُمّ الخبائث کا درجہ رکھتے ہیں اور یہ سیکڑوں خبائث کا سرچشمہ ہیں۔“
(ٹی وی اور ویڈیو پر اچھی تقریریں سننا، ج: 8، ص:434، ط: مکتبہ لدھیانوی)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100639
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن