بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 رجب 1442ھ 02 مارچ 2021 ء

دارالافتاء

 

حالتِ جنابت میں ناخن کاٹنا


سوال

اگر کسی آدمی پر غسل فرض هو تو ناخن وغيره کب کاٹے جائیں؟

جواب

جنابت کی حالت میں ناخن، بال اور اسی طرح  زائد بالوں کی صفائی  کرنا مکروہِ تنزیہی ہے؛ لہذا بہتر یہی ہے کہ  غسلِ جنابت سے فراغت کے بعد ناخن کاٹے جائیں۔

الفتاوى الهندية (5/ 358):

’’حلق الشعر حالة الجنابة مكروه، وكذا قص الأظافير، كذا في الغرائب‘‘.

طحطاوی علیٰ مراقی الفلاح (2/143) باب الجمعة، تکمیل، ط: غوثیه):

’’(ویکره (قص الأظفار) وفي حالة الجنابة، وکذا إزالة الشعر؛ لماروی خالد مرفوعاً: «من تنور قبل أن یغتسل جاءته کل شعرة فتقول: یا رب! سله لم ضیعني ولم یغسلني». کذا في شرح شرعة الإسلام عن مجمع الفتاوی وغیره‘‘.

 مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج (1/ 222) :

’’ فَائِدَةٌ: قَالَ فِي الْإِحْيَاءِ: لَا يَنْبَغِي أَنْ يُقَلِّمَ أَوْ يَحْلِقَ أَوْ يَسْتَحِدَّ أَوْ يُخْرِجَ دَمًا أَوْ يُبِينَ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا وَهُوَ جُنُبٌ، إذْ يُرَدُّ إلَيْهِ سَائِرُ أَجْزَائِهِ فِي الْآخِرَةِ فَيَعُودُ جُنُبًا، وَيُقَالُ: إنَّ كُلَّ شَعْرَةٍ تُطَالِبُ بِجَنَابَتِهَا‘‘.

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200041

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں