بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1447ھ 10 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جان بوجھ کر غیر مذہبی نعرے لگانے کا حکم


سوال

ایک شخص جو پیدائشی مسلمان ہے، وہ جان بوجھ کر غیر مسلموں کے مذہبی نعرے (مثلاً “جے شری رام” وغیرہ) اپنے مسلمان گھر والوں کے سامنے فخریہ انداز میں، اور کبھی مذاق کے طور پر لگاتا ہے۔ بارہا سمجھانے اور آخرت کے عذاب سے ڈرانے کے باوجود وہ نہ توبہ کرتا ہے اور نہ ہی اس عمل سے باز آتا ہے۔ شریعت کی روشنی میں ایسے شخص کے ایمان، نکاح، اور وفات کی صورت میں اس کے جنازہ و تدفین کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ "جے"کامعنی ہے"زندہ باد،یعنی جیتے رہو"اور "شری"کا لفظ ادب کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا معنی ہے "صاحب،جناب "اور"رام " ہندو مذہب میں ان کامعبود اور بھگوان مانا جاتا ہے،لہذا"جے شری رام "کا معنی ہوا"رام بھگوان جی جیتے رہیں" اور یہ نعرہ ہندوؤں کا ایک مذہبی نعرہ اور مذہبی شعار ہے،جیسے  مسلمان اللہ رب العزت کو پکارنے کے  لیے "یا اللہ"کہتے ہیں ،ایسے ہندواپنے بھگوان کو پکارنے کے لیے یہ نعرہ لگاتے ہیں۔

لہذا اگر کوئی مسلمان بغیر کسی مجبوری اوربغیر کسی زبردستی کے اپنے اختیار سےیہ نعرہ لگائے گاتو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا اور اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا،اس پر توبہ واستغفار  اور  تجدیدِ ایمان کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا۔اور اگر اسی حالت میں فوت ہو جائے تو اس کا جنازہ نہیں پڑھاجائےگا  کیونکہ نمازِ جنازہ میت کے لیے دعائے مغفرت ہے، اور کسی کافر مرتد کے لیے مغفرت کی دعاء شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔مسلم طریقہ کے مطابق کفن دفن بھی نہیں دیاجائےگا بلکہ گھڑےمیں پھینک دیا جائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلاً أو لاعبًا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده، كما صرح به في الخانية. ومن تكلم بها مخطئًا أو مكرهًا لايكفر عند الكل، ومن تكلم بها  عامدًا عالمًا كفر عند الكل، ومن تكلم بها اختيارًا جاهلاً بأنها كفر ففيه اختلاف. اهـ".

(باب المرتد، ج:4، ص: 224 ط: سعید)

تفسیر کبیر میں ہے:

"قوله: ‌ولا ‌تصل ‌على ‌أحد منهم مات أبدا قال الواحدي: مات في موضع جر لأنه صفة للنكرة كأنه قيل على أحد منهم ميت وقوله: أبدا متعلق بقوله: أحد والتقدير ولا تصل أبدا على أحد منهم. واعلم أن قوله: ولا تصل أبدا يحتمل تأبيد النفي ويحتمل تأبيد المنفي، والمقصود هو الأول، لأن قرائن هذه الآيات دالة على أن المقصود منعه من أن يصلي على أحد منهم منعا كليا دائما."

(سورۃ التوبه، ج:16، ص:116، ط:دارإحياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے:

"أما المرتد فيلقى في حفرة كالكلب، (قوله فيلقى في حفرة) أي ولا يغسل، ولا يكفن؛ ولا يدفع إلى من انتقل إلى دينهم بحر عن الفتح"

(باب صلاۃ الجنازۃ، ج:2، ص:230، ط: سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال:کسی ہندوکو"رام رام"کرنےیا لینے سے کفر عائد ہوجاتا ہے؟یا"جے رام"کرنے سے؟

"جواب:اسلامی شعائر"السلام علیکم "ہے،غیر اسلامی شعائر کو اختیار کرنا جائز نہیں ہے،پھر اگر وہ غیر کا شعار ہوتو اس کو اختیار کرنا معصیت ہے،اگر مذہبی شعار ہو تو کفر تک پہنچ جانے کا خطرہ ہے۔"

(ج:19،ص:96،ط:زیر نگرانی دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

فیروزاللغات میں ہے:

"(جے):زندہ باد۔(شری):جناب ،صاحب۔"

(ص:540،841،ط:فیروز سنز)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102056

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں