
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایسی فرضی کہانی کا مطالعہ کرتا ہے جس میں جنسی اشتعال کے ساتھ ساتھ مقدسات کی بے حرمتی ہو تو کیا ایسا شخص دائر اسلام سے خارج ہے یا فقط گنہگار ہو گا اور اللہ کی بارگاہ سے معافی کا امکان ہے؟
صورت مسئولہ میں فرضی کہانیاں اور فحش و باطل عقائد پر مبنی لٹریچر کا مطالعہ کرنا جائز نہیں۔ رہی بات دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کی، تو اس کا مدار مطالعہ کرنے والے کے عقیدے پر ہے۔ اگر کوئی شخص باطل عقائد پر مبنی کتب پر ایمان لے آئے یعنی باطل عقائد کو دل سے تسلیم کرلے تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔البتہ اگر باطل عقائد کو باطل ہی جانتے ہوئے محض لذت کے لیے پڑھتا ہو تو اس صورت میں وہ گناہ گار ہوگا۔ بہر صورت اس قسم کے لٹریچر کے مطالعہ سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ یہ عمل "لہو الحدیث" کے زمرے میں داخل ہے، اور اللہ رب العزت نے لہو الحدیث میں مشغولیت کی قرآن مجید میں مذمت فرمائی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ومن ٱلناس من یشۡتری لهۡو ٱلۡحدیث لیضل عن سبیل ٱلله بغیۡر علۡمࣲ ویتخذها هزوا أو۟لـۤىٕك لهمۡ عذابࣱ مهینࣱ (٦)﴾[لقمان ٦]
تفسیر معارف القرآن میں ہے:
"اور جمہور صحابہ و تابعین اور عامہ مفسرین کے نزدیک لہو الحدیث عام ہے تمام ان چیزوں کے لئےجو انسان کو اللہ کی عبادت اور یاد سے غفلت میں ڈالیں۔ اس میں غناء و مزامیر بھی داخل ہے اور بیہودہ قصے کہانیاں بھی۔ امام بخاری نے اپنی کتاب الادب المفرد میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں لہو الحدیث کی یہی تفسیر اختیار کی ہے۔ اس میں فرمایا ہے کہ لَهْوَ الْحَدِيثِ هُوَ الْغِنَاءُ وَأَشْبَاهُهُ۔ یعنی لہو الحدیث سے مراد گانا اور اس کے مشابہ دوسری چیزیں ہیں (جو اللہ کی عبادت سے غافل کر دیں)۔ اور سنن بیہقی میں ہے کہ اشتراء لہو الحدیث سے مراد گانے بجانے والے مرد یا عورت کو خریدنا یا اس کے امثال ایسی بیہودہ چیزوں کو خریدنا ہے جو اللہ کی یاد سے غافل کریں۔ ابن جریر نے بھی اسی عام معنی کو اختیار فرمایا ہے۔ ترمذی کی ایک روایت سے بھی یہی عموم ثابت ہوتا ہے جس میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ گانے والی لونڈیوں کی تجارت نہ کرو، اور پھر فرمایا: فِي مِثْلِ هٰذَا أَنْزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيث"
(سورۃ لقمان، ج:7 ص:18 ط:مکتبۃ المعارف القرآن کراچی)
وفیہ ایضا
"اس زمانے میں بیشتر نوجوان فحش ناول یاجرائم پیشہ لوگوں کے حالات پر مشتمل قصے یا فحش اشعار دیکھنے کے عادی ہیں،یہ سب چیزیں اسی قسم لہو حرام میں داخل ہیں ،اسی طرح گمراہ اہل باطل کے خیالات کا مطالعہ بھی عوام کے لیے گمراہی کا سبب بننے کی وجہ سے ناجائز ہے۔"
(سورۃ لقمان، ج:7 ص:23 ط:مکتبۃ المعارف القرآن کراچی)
رد المحتار میں ہے :
"وحديث: «حدثوا عن بني إسرائيل» يفيد حل سماع الأعاجيب والغرائب من كل ما لايتيقن كذبه بقصد الفرجة لا الحجة بل وما يتيقن كذبه لكن بقصد ضرب الأمثال والمواعظ وتعليم نحو الشجاعة على ألسنة آدميين أو حيوانات ذكره ابن حجر."
(كتاب الحظر والإباحة فصل في البيع ج:4 ص:404 ط:دار الفكر)
رد المحتار میں ہے :
"(قوله: وحديث: «حدثوا عن بني إسرائيل» ) تمامه " ولا حرج " أخرجه أبو داود وفي لفظ لأحمد بن منيع عن جابر «حدثوا عن بني إسرائيل فإنه كان فيهم أعاجيب» وأخرج النسائي بإسناد صحيح عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «حدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج وحدثوا عني ولا تكذبوا علي» " فقد فرق عليه الصلاة والسلام بين الحديث عنه والحديث عنهم، كما نقله البيهقي عن الشافعي (قوله: بقصد الفرجة لا الحجة) الفرجة مثلثة التفصي عن الهم والحجة بالضم البرهان قاموس (قوله: لكن بقصد ضرب الأمثال إلخ) وذلك كمقامات الحريري، فإن الظاهر أن الحكايات التي فيها عن الحارث بن همام والسروجي لا أصل لها، وإنما أتى بها على هذا السياق العجيب لما لا يخفى على من يطالعها، وهل يدخل في ذلك مثل قصة عنترة والملك الظاهر وغيرهما، لكن هذا الذي ذكره إنما هو عن أصول الشافعية، وأما عندنا فسيأتي في الفروع عن المجتبى أن القصص المكروه أن يحدث الناس بما ليس له أصل معروف من أحاديث الأولين أو يزيد أو ينقص ليزين به قصصه إلخ فهل يقال عندنا بجوازه إذا قصد به ضرب الأمثال ونحوها يحرر.(قوله: على ألسنة آدميين أو حيوانات) أي أو جمادات كقولهم قال الحائط للوتد لم تخرقني قال سل من يدقني."
"القصص المكروه أن يحدثهم بما ليس له أصل معروف أو يعظهم بما لا يتعظ به أو يزيد وينقص يعني في أصله، أما للتزين بالعبارات اللطيفة المرققة والشرح لفوائده فذلك حسن."
وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار)تحته:
"(قوله: القصص) بفتحتين مصدر قص (قوله: يعني في أصله) أي بأن يزيد على أصل الكلام أشياء من عنده غير ثابتة أو ينقص ما يخرج المنقول الثابت عن معناه."
(كتاب الحظر والإباحة فصل في البيع ج:6 ص:422 ط:دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101623
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن