بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جامعہ کے فاضل کا اپنے نام کے ساتھ بنوری لگانے کا حکم


سوال

بنوری ٹاؤن کے فاضل کا اپنے ساتھ بنوری لکھنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  کسی فاضل کا جامعہ کی نسبت سے  اپنے نام کے ساتھ ’’بنوری‘‘ کی نسبت لگانا درست نہیں، کیونکہ یہ نسبت خاندانی اور قومی شناخت کی نسبت ہے، علمی نسبت نہیں ہے، نیز جامعہ کے فضلاء میں اپنے نام کے ساتھ ’’بنوری‘‘ کی نسبت لگانے کا کوئی تعامل  بھی نہیں ہے، لہذا اگر کوئی فاضل  اپنے  نام کے ساتھ بنوری کی نسبت لگائے گا  تو سننے والوں کو یہ مغالطہ ہوگا کہ اس کا تعلق  بنوری خاندان سے ہے،  جوکہ حقیقت کے خلاف ہے، لہذا کسی بھی  فاضل  کے لیے اپنے نام کے  ساتھ بنوری کی نسبت لگانا درست  نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا" (سورہ حجرات: 13)

ترجمہ: ”اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف خاندان بنایا ہے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو۔“ (بیان القرآن)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (لا ترغبوا) : أي: لا تعرضوا (عن آبائكم) : أي: عن الانتماء إليهم (فمن رغب عن أبيه) : أي: وانتسب إلى غيره (فقد كفر) : أي قارب الكفر، أو يخشى عليه الكفر. في النهاية: الدعوة بالكسر في النسب، وهو أن ينتسب الإنسان إلى غير أبيه وعشيرته، وكانوا يفعلونه فنهوا عنه، والادعاء إلى غير الأب مع العلم به حرام، فمن اعتقد إباحته كفر لمخالفة الإجماع، ومن لم يعتقد إباحته فمعنى (كفر) : وجهان، أحدهما: أنه أشبه فعله فعل الكفار، والثاني: أنه كافر نعمة الإسلام. قال الطيبي: ومعنى قوله: فالجنة عليه حرام على الأول ظاهر، وعلى الثاني تغليظ (متفق عليه) . ولفظ ابن الهمام: " من ادعى أبا في الإسلام غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام ) : وأما لفظ الكتاب فمطابق لما في الجامع الصغير."

(كتاب النكاح، باب اللعان، ج:5، ص:2170، ط: دار الفکر)

ارشاد السالك الی حل الفیة ابن مالک میں ہے:

"معنى النسب: أن تضيف شيئاً إلى شيء فيصير منسوبا إليه، ثم قد يكون النسب إلى جنس كإنسي وعربي، وقد يكون إلى قبيلة كقرشي، وإلى أبٍ كهاشمي، وإلى أم كفاطمي، وإلى مكان كبصري وحجازي، وإلى صناعة كحريري، وإلى شيخ كأحمدي، وإلى زي كصوفي، وإلى اعتقاد كقدري، وغير ذلك مما تصح ‌النسبة إليه."

(النسب، ج:2، ص:939، ط: أضواء السلف، الریاض)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801100033

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں