
درج ذیل روایت اگر صحیح ہے تو اس کا متن مع حوالہ واردو ترجمہ درکار ہے:
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے : ’’ہم تو اپنا حال یہ دیکھتے تھے کہ جو شخص کھلم کھلا منافق ہو وہ تو جماعت سے رہ جاتا تھا، ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عام منافقوں کی بھی جماعت چھوڑنے کی ہمت نہ ہوتی تھی‘‘۔
سوال میں مذکورہ روایت سندًاصحیح ہے، اور یہ روایت الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ حدیث کی کئی معتبر کتابوں میں مذکور ہے، جیسے: صحیح مسلم، صحیح ابن حبان، سنن ابی داود، سنن سنائی، سنن ابن ماجہ، سنن کبری، مسند احمد، مسند طیالسی،مسند ابی یعلی موصلی، مصنف عبد الرزاق، معجم کبیر طبرانی،روایت کا مکمل متن اور ترجمہ ملاحظہ ہو:
صحیح مسلم میں ہے:
"قال عبد الله: لقد رأيتنا وما يتخلف عن الصلاة إلا منافق قد علم نفاقه. أو مريض. إن كان المريض ليمشي بين رجلين حتى يأتي الصلاة. وقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم علمنا سنن الهدى. وإن من سنن الهدى الصلاة في المسجد الذي يؤذن فيه."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجماعة من سنن الهدى، ص: ٢٩٢، رقم الحديث: ٦٤٨، ط: دار التأصيل)
ایضا:
"عن عبد الله قال: "من سره أن يلقى الله غدا مسلما فليحافظ على هؤلاء الصلوات حيث ينادى بهن فإن الله شرع لنبيكم صلى الله عليه وسلم سنن الهدى، وإنهن من سنن الهدى. ولو أنكم صليتم في بيوتكم كما يصلي هذا المتخلف في بيته لتركتم سنة نبيكم. ولو تركتم سنة نبيكم لضللتم. وما من رجل يتطهر فيحسن الطهور ثم يعمد إلى مسجد من هذه المساجد إلا كتب الله له بكل خطوة يخطوها حسنة ويرفعه بها درجة ويحط عنه بها سيئة، ولقد رأيتنا وما يتخلف عنها إلا منافق معلوم النفاق. ولقد كان الرجل يؤتى به يهادى بين الرجلين حتى يقام في الصف."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجماعة من سنن الهدى، ص: ٢٩٢، رقم الحديث: ١/٦٤٨، ط: دار التأصيل)
مظاہر حق جدید میں ہے:
’’حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے دیکھا ہے کہ نماز با جماعت سے صرف وہی منافق لوگ پیچھے رہ جاتے تھے جن کا نفاق معلوم اور کھلا ہوا تھا (یعنی جن لوگوں کا نفاق پوشیدہ تھا وہ بھی جماعت میں حاضر ہوتے تھے) یا بیمار رہ جاتے تھے (یعنی جس مریض کو مسجد آنے کی کچھ نہ کچھ طاقت ہوتی تھی وہ جماعت میں آتا تھا چنانچہ) جو مریض دو آدمیوں کے درمیان (یعنی ان کے سہارے سے) چل سکتا تھا وہ بھی نماز میں آتا تھا۔ (اس کے بعد) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا ’’بے شک سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کے طریقے سکھائے ہیں اور ہدایت کے ان طریقوں میں سے (ایک طریقہ) اس مسجد میں (جماعت سے) نماز پڑھنا ہے جس میں اذان دی جاتی ہو۔‘‘ ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓنے فرمایا جس شخص کے لیے یہ بات خوش کن ہو کہ وہ کل کے دن خدا سے کامل مسلمان کی حیثیت سے ملاقات کرے تو اسے چاہیے کہ وہ ان پانچوں نمازوں کی اس جگہ حفاظت کرے جہاں ان نمازوں کے لیے اذان دی جاتی ہو (یعنی مسجد میں ان پانچوں نمازوں کو جماعت کے ساتھ پابندی سے ادا کرتا رہے) کیونکہ اللہ جل شانہ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے (تمام) طریقے مقرر کر دیے تھے اور ان پانچوں نمازوں کو جماعت سے پڑھنا بھی ہدایت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ اگر تم اپنی نماز کو اپنے گھروں میں (اگر چہ جماعت سے) پڑھو گے جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا (یعنی منافق) نماز پڑھتا ہے تو ’’سمجھ لو‘‘ تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑنے والے ہوگے اور اگر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دو گے تو بے شک گمراہ ہو جاؤ گے۔ اور جو شخص پاک ہو کر اچھی طرح وضو کرتا ہے (یعنی وضو کے پورے حقوق وآداب کا لحاظ رکھتا ہے اور اس کے تمام واجبات وسنن کو ادا کرتا ہے) اور پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد میں جاتا ہے تو خداوند قدوس اس کے ہر قدم کے بدلہ جو وہ (مسجد کی راہ میں) رکھتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک برائی کو اس سے دور کردیتا ہے، ہم نے دیکھا ہے کہ کھلے ہوئے منافق کے علاوہ کوئی شخص جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا (یعنی جماعت ترک نہ کرتا تھا) یہاں تک کہ بیمار آدمی اس حالت میں نماز میں لایا جاتا کہ وہ (انتہائی ضعف وکمزوری کی وجہ سے) دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے ہوتا اور اس کو صف میں لا کھڑا کر دیا جاتا تھا۔‘‘ (مسلم)
(جماعت سے نماز پڑھنے کی تاکید، 1 / 690-691، دار الاشاعت، کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100826
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن