بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1448ھ 18 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

جماعت کی نماز میں جائے نماز بچھانے کا طریقہ


سوال

سوال یہ ہےکہ 4 ،5 بندے آپس میں جماعت سے نماز پڑھنا چاہ رہے ہیں اور جائے نماز صرف دو ہی ہیں ایک جائے نماز پر تو امام کھڑا ہے تو دوسری جائے نماز کو کس طرح بچھایا جائے کہ مقتدی اس پر کھڑے ہو جائیں کیا جائے نماز کو چوڑائی میں اس طرح بچھایا جائے کہ مقتدیوں کی پیشانی جائے نماز پر اور پاؤں زمین پر ہو یا پھر چوڑائی میں اس طرح بچھایا جائے کہ مقتدیوں کے پاؤں جائے نماز پر ہو اور سجدہ زمین پر یا پھر دو دو بندے کر کر الگ الگ جماعت کرائی جائے نوٹ: جبکہ زمین پاک ہو تفصیل سے وضاحت کرتے ہیں ۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب زمین پاک ہے تو پھر جس طریقہ پر بھی جائے نماز رکھ کر نماز ادا کرنی ہے کرلی جائے،ہر صورت میں نماز ادا ہوجائے گی۔جائے نماز کا بچھانا نماز کی شرط نہیں ہے، نماز کی شرط جگہ کی پاکی ہے۔ صرف اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ امام آگے کھڑا ہو اور باقی 3 یا 4 مقتدی پیچھے کھڑے ہوں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"تطهير النجاسة من بدن المصلي وثوبه والمكان الذي يصلي عليه واجب."

(کتاب الطہارۃ، ج:1،ص:  58، دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100024

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں