
میری بہن کے مدرسے میں ایک معلمہ نے سوال پوچھا تھا کہ حج میں جمرات کی رمی کے وقت جو پتھر مارے جاتے ہیں وہ کہاں جاتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب بتایا کہ فرشتے آکر اٹھاتے ہیں اور وہ اللہ قبول کرتے ہیں اور جن کا نہیں اٹھایا گیا ہوتا تو ان کا حج مقبول نہیں۔
یہ جواب کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ فرشتے تو پرانے زمانے میں اس طرح آتے تھے یا پھر آسمان سے نیچے اترتے تھے۔ تو یہ جواب صحیح ہے یا غلط؟
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے رمی جمرات کی ان کنکریوں سے متعلق سوال کیاتھا تو انہوں نے فرمایا: کہ جو ان میں سے مقبول ہو جاتی ہیں وہ اٹھالی جاتی ہیں اور جو مقبول نہیں ہوتی وہ چھوڑ دی جاتی ہیں۔
اس روایت کو اگر چہ سنداً ضعیف کہا گیا ہے لیکن فقہائے کرام نے ایسی روایت سے استدلال کرتے ہوئے جمرات کی پاس پڑی ہوئی کنکریوں کو رمی کے لیے اٹھانے کو مکروہ کہا ہے ۔اس لیے سائلہ کی بہن کے مدرسہ کی معلمہ کا مدرسہ کا جواب درست ہے ۔البتہ کس کاحج قبول ہوا اور کس کا نہیں، یہ اللہ ہی کے علم میں ہوتا ہے، بندہ اس بات کا مکلف نہیں ہے، بندہ اس کا مکلف ہے اس کے ذمہ جو عمل ہے اس کی کما حقہ بجاآوری کی کوشش کرے اور پھراس عمل کی ادائیگی کے بعداللہ کے یہاں اس کی قبولیت کا امیدوار رہے اور اس کی دعا کرتا رہے۔
نیز فرشتوں کا آسمان سے اترنا مختلف مواقع پر ثابت ہے، جیسا کہ غزوۂ بدر اور غزوۂ احزاب کے موقع پر فرشتے نازل ہوئے۔تفسیر طبری میں ہے کہ بارش کے ہر قطرہ کے ساتھ ایک فرشتہ ہوتا ہے اسی طرح احادیث میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ فرشتے روزانہ دو مرتبہ، ایک صبح کے وقت اور ایک عصر کے وقت آتے ہیں اور انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں۔ لہٰذا فرشتوں کے نزول کو بعید یا محال سمجھنا یا یہ سمجھنا کہ فرشتے پرانے زمانے میں آتے تھے اب نہیں آتے،یہ درست نہیں ہے۔
السنن الكبری للبیہقی میں ہے:
"وأخبرنا أبو نصر محمد بن أحمد بن إسماعيل الطابراني بها، ثنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه إملاء، ثنا محمد بن يونس القرشي، ثنا أزهر بن سعد السمان، ثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن أبي الطفيل، قال: سألت ابن عباس عن الحصى الذي يرمى في الجمار منذ قام الإسلام، فقال: " ما تقبل منهم رفع، وما لم يتقبل منهم ترك ولولا ذلك لسد ما بين الجبلين " وروينا، عن سفيان الثوري، عن ابن خثيم، عن أبي الطفيل، عن ابن عباس، قال: " وكل به ملك ما تقبل منه رفع، وما لم يتقبل منه ترك " وعن سفيان، قال: حدثني سليمان العبسي، عن ابن أبي نعيم، قال: سألت أبا سعيد، عن رمي الجمار، فقال لي: " ما تقبل منه رفع، ولولا ذلك كان أطول من ثبير "
(باب أخذ الحصى لرمى جمرة العقبة وكيفية ذلك،ج:5، ص:209، ط:الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت)
المهذب في اختصار السنن الكبير میں ہے:
" يحيى بن سعيد الأموي، ثنا يزيد بن سنان، عن زيد بن أبي أنيسة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الرحمن بن أبي سعيد، عن أبيه قال: "قلنا: يا رسول الله، هذه الأحجار التي يرمى بها تحمل فنحسب أنها تنقعر. قال: إنه ما تقبل منها يرفع، ولولا ذلك لرأيتها مثل الجبال". يزيد ليس بالقوي، ويروى من وجه آخر ضعيف من حديث ابن عمر مرفوعًا."
(كتاب الحج، ج:4، ص: 1880ط:دار الوطن للنشر)
التعريف والاخبار بتخريج احاديث الاختيار ميں ہے:
"حديث: "من قبل حجه رفع حصاه":الدارقطني، والحاكم، من طريق عبد الرحمن بن أبي سعيد، عن أبيه، "قلنا: يا رسول الله هذه الجمار التي يرمى بها كل عام فنحسب أنها تنقص؟ فقال: إنه ما تقبل منها رفع، ولولا ذلك لرأيتها أمثال الجبال" وفيه أبو فروة يزيد بن سنان وهو ضعيف. وأخرجه ابن أبي شيبة من طريق (أبي سعيد): "ما تقبل من الجمار رفع، "أورده موقوفًا، وكذا أخرجه أبو نعيم في الدلائل، وأخرج من حديث ابن عمر (مرفوعًا): "ما قبل حج امرء إلا رفع حصاه" وفي إسناده واسط بن» الحارث، ذكره ابن عدي في ترجمته، وقال: عامة ما يرويه لا يتابع عليه، ووقع في دلائل أبي نعيم "العوام" بدل "واسط". وروى إسحاق، وابن أبي شيبة، والأزرقي، عن ابن عباس، فى حصى الجمار: "ما تقبل منه رفع، وما لم يتقبل منه ترك". أورده من ثلاث طرق موقوفًا وهو في حكم المرفوع."
(كتاب الحج، ج:2، ص: 193، ط:الفاروق الحديثة للطباعة والنشر، القاهرة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويكره) أخذها (من عند الجمرة) لأنها مردودة لحديث «من قبلت حجته رفعت جمرته
(قوله لأنها مردودة) أي فيتشاءم بها السراج (قوله لحديث إلخ) أي ما رواه الدارقطني والحاكم وصححه عن «أبي سعيد الخدري - رضي الله تعالى عنه - قال: قلت يا رسول الله هذه الجمار التي نرمي بها كل عام فنحسب أنها تنقص فقال إن ما يقبل منها رفع ولولا ذلك لرأيتها أمثال الجبال» " شرح النقاية للقاري.وفي الفتح عن سعيد بن جبير: قلت لابن عباس ما بال الجمار ترمى من وقت الخليل عليه السلام ولم تصر هضابا أي تلالا تسد الأفق؟ فقال: أما علمت أن من يقبل حجه يرفع حصاه. اهـ."
(كتاب الحج، مطلب في رمي جمرة العقبة، ج:6، ص:515، ط:سعید)
صحیح بخاری میں ہے :
"عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " يتعاقبون فيكم ملائكة بالليل وملائكة بالنهار، ويجتمعون في صلاة الفجر وصلاة العصر، ثم يعرج الذين باتوا فيكم، فيسألهم وهو أعلم بهم: كيف تركتم عبادي؟ فيقولون: تركناهم وهم يصلون، وأتيناهم وهم يصلون ."
(باب فضل صلاة العصر،ج : 1 ص : 115 ط : السلطانية)
تفسیر الطبری میں ہے:
"حدثني نَصر بن عبد الرحمن الأزدي، قال: حدثنا محمد بن يَعْلَى، عن أبي الخطاب البصري، عن شَهر بن حَوشب، قال: الرّعد، مَلك موكَّل بالسحاب يَسوقه، كما يسوق الحادي الإبل، يُسبِّح. كلما خالفتْ سحابةٌ سحابةً صاح بها، فإذا اشتد غَضبه طارت النارُ من فيه، فهي الصواعقُ التي رأيتم
(تفسير سورة البقرة، ج:1، ص:339، ط:دار التربية والتراث)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101521
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن