
(1)دبئی کے عرب حضرات مجھے سال میں ایک دفعہ دو مہینے کے لیے دوسرے ممالک میں اپنے ساتھ شکار کے لیے لے جاتے ہیں ،دو مہینے کا ٹائم ہوتا ہے، اور جنگل میں ہماری رہائش ہوتی ہے، وہاں خیمے لگاتے ہیں، اور شہرکی طرح سب سہولیات ہوتی ہیں، وہ مجھے اپنا امام بنانا چاہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ آپ ہمیں جمع بین الصلاتین نماز پڑھائیں، میں حنفی ہوں اور وہ شافعی، مالکی، اورحنبلی ہیں ، تو کیا میں ان کا امام بن سکتا ہوں ،اگر میں ان کو نماز پڑھاؤں، تو مجھے ظہر کے وقت میں یعنی 1بجے یاسوا1بجے ظہر اور عصر دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھانی ہوں گی، اور مغرب کے وقت مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھانی ہوگی، جبکہ میں حنفی ہوں،اوریہ تینوں دوسرے مسلک کے لوگ ہیں،تو کیا میں ان کو ا ن نمازوں میں امامت کرسکتاہوں؟
(2) میں نےسنا ہے کہ ان کے ہاں نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والے کی نماز ادا ہوجاتی ہے ،اگر یہ بات در ست ہے، تو کیا میں اس نماز میں جس کا وقت داخل نہیں ہواہے نفل کی نیت کروں، اور وہ اس میں میرے پیچھے فرض کی نیت کریں،اس صورت میں کیا ان کی نماز ہوجائے گی ؟
(1)قرآنِ کریم کی آیاتِ مبارکہ اور احادیثِ شریفہ سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ نمازوں کو ان کے وقتِ مقررہ پر ادا کرنا ضروری ہے، اور ان میں تقدیم و تاخیر جائز نہیں ہے، چنانچہ قرآن کریم میں ہے :
﴿اِنَّ الصَّلوٰةَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا ﴾ [النساء}
ترجمہ: ’’بے شک نماز مسلمانوں پروقتِ مقررہ کے ساتھ فرض ہے‘‘۔
نیزشریعت میں ہرنماز کی ابتدا کا وقت بھی مقرر ہے اور اس کے ختم ہونے کا بھی وقت مقررہے، چاہے وہ فجرہو،یاظہرہو،یاعصر ہو،یامغرب ہو،یاعشاء ہو ،یا جمعہ ہو۔ اس لیے احناف کے نزدیک دوفرض نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا نہ مقیم کے لیے جائز ہے اور نہ ہی مسافر کے لیے ۔
البتہ حج کے موقع پر مزدلفہ میں عشاء کے وقت میں مغرب وعشاء ، اور عرفہ میں ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر کی نماز جمع کرنا آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، اس کے علاوہ کسی موقع پر نماز کو وقت داخل ہونے سے پہلے ادا کرنا یا بغیر عذر کے وقت گزرنے کے بعد ادا کرنا ثابت نہیں ہے۔
البتہ امام شافعی اور دیگر بعض فقہاء کے نزدیک سفر کی حالت میں جمع بین الصلاتین جائز ہے، تاہم چونکہ فقہ حنفیہ کے مطابق عرفہ و مزدلفہ کے علاوہ کسی بھی مقام یا حالت میں جمع بین الصلاتین کی اجازت نہیں ہے، اس لیے سائل جو حنفی المسلک ہے،اس کے لیے ان افراد کی جمع بین الصلاتین میں امامت کرنا جائز نہیں ہوگا، جو امام شافعی یا دیگر ایسے مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں جن کے نزدیک سفر میں جمع بین الصلاتین جائز ہے، کیونکہ ایسی صورت میں سائل اپنے مسلک کی رو سے ایسی نماز کی امامت کر رہا ہوگا، جو اس کے نزدیک جائز ہی نہیں، اور یہ فقہی اصولوں اور تقاضائے دیانت کے منافی ہے۔
(2) واضح رہے کہ اپنے مسلک کو چھو ڑکر دوسرے مسلک پرعمل کرنا عام حالات میں جائز نہیں ہے، صرف ضرورتِ شدیدہ ہو (جس کے لیے شرعاً اضطرار کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے)اور اپنے مذہب پر عمل کرنے میں حرج و مشقت لازم آتی ہو تو ایسی صورت میں کسی دوسرے امام کے مذہب پر عمل کیا جاسکتا ہے، بشرط یہ کہ دوسرے مذہب پر عمل کرنا خواہش نفس اور رخصت کو تلاش کرنے کی بنا پر نہ ہو اور نہ ہی تلفیق سے کام لیا جاتا ہو۔
صورتِ مسئولہ میں سائل چونکہ حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے اگر وہ نفل نماز کی امامت کرے اور مقتدی شافعی مسلک کے پیروکار ہونے کی بنا پر اپنی فرض نماز کی نیت کریں، تو ایسی حالت میں سائل کے لیے اپنے مسلک سے عدول کرنا لازم آئے گا،جبکہ اس معاملے میں کوئی ایسی مجبوری یا اضطراری صورت حال نہیں پائی جاتی جس کی وجہ سے دوسرے مسلک پر عمل کی گنجائش نکلتی ہو، لہٰذا سائل کا اس طریقے سے امامت کرنا درست نہیں، بہتر یہ ہے کہ مقتدی حضرات اپنی جماعت کے لیے اپنے مسلک کے کسی فرد کو امام بنائیں اور اسی کے مطابق نماز ادا کریں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(ولا جمع بين فرضين في وقت بعذر) سفر ومطر، وما رواه محمول على الجمع فعلاً لا وقتاً (فإن جمع فسد لو قدم) الفرض على وقته (وحرم لو عكس) أي أخره عنه (وإن صح) بطريق القضاء (إلا لحاج بعرفة ومزدلفة).(قوله: وما رواه) أي من الأحاديث الدالة على التأخير كحديث أنس «أنه صلى الله عليه وسلم كان إذا عجل السير يؤخر الظهر إلى وقت العصر فيجمع بينهما، ويؤخر المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء». وعن ابن مسعود مثله".
(کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:381،ط:سعید)
شرح عقود رسم المفتی میں ہے:
"وبه علم أن المضطر له العمل بذلك لنفسه كما قلنا وأن المفتي له الإفتاء به للمضطر. فما مر من أنه ليس له العمل بالضعيف ولا الإفتاء به محمول على غير موضع الضرورة، كما علمته من مجموع ما قررناه. والله تعالى أعلم... قال في خزانة الروايات: العالم الذي يعرف معنى النصوص والأخبار، وهو من أهل الدراية يجوز له أن يعمل عليها وإن كان مخالفا لمذهبه.انتهى"
(ص: 89، ط: البشری)
الدرالمختار میں ہے:
"ولامفترض بمتنفل وبمفترض فرض آخر؛ لأن اتحاد الصلاتین شرط عندنا، وصح أن معاذاً کان یصلي مع النبي صلی اللہ علیہ وسلم نفلاً وبقومہ فرضاً."
(کتاب الصلاۃ،باب الإمامة، ج:1، ص:579، ط:دارالفکر، بیروت)
الفقه على المذاهب الأربعةمیں ہے :
"ومن شروط الإمامة أن لا يكون الإمام أدنى حالا من المأموم فلا يصح اقتداء مفترض بمتنفل إلا عند الشافعية فانظر مذهبهم تحت الخط ( الشافعية قالوا : يصح اقتداء المفترض بالمتنفل مع الكراهة)."
(کتاب الصلاۃ،اقتداء المفترض بالمتنفل،ج:1،ص:380 ،ط:دار الكتب العلمية)
فقط وللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101264
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن