بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جلسے میں وعظ، بیان کے لیے کم یا زدہ وقت منتخب کرنے کا حکم


سوال

آج کل مدارس کے جلسوں میں زیادہ تعداد کو  ترجیح دی جاتی ہے اور ہر ایک عالم کو تین یا چار منٹ کاموقع ملتا ہے جس سے نہ عوام کو کچھ بات سمجھ میں آ تی ہے،مطلب جلسے کا مقصد پورا نہیں ہوتا ہے ۔

کیایہ ترتیب ٹھیک ہے؟ اگر یہ ترتیب ٹھیک نہیں ہے تو اس میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ کچھ ایسی بہترین رائے دیں جس سے ہمیں فائدہ ہو ۔

جواب

واضح رہے کہ جلسوں میں زیادہ تعداد کو ترجیح دینا یا کم کو، نیز ہر عالم کو بیان کے لیے زیادہ وقت دینا یا کم یہ انتظامی امور سے تعلق رکھتا ہے، یہ جس مدرسہ کے جلسے میں ہورہا ہے، ان سے معلومات حاصل کر لی جائیں، کیوں کہ اس کا فتوی سے کوئی تعلق نہیں، ہر ایک ادارہ حالات اور اپنی حیثیت کے مطابق جلسے اور وعظ  ونصیحت کی مجالس قائم کرتا ہے، تاہم وعظ ونصیحت میں لمبی گفتگو کے بجائے ایسی  درمیانی گفتگو کو ترجیح حاصل ہے، کہ جس میں لوگوں کو بات سمجھ آئے اور زیادہ وقت بھی نہ لے، چناں چہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے وعظ ونصیحت میں اس بات کا پورا اہتمام ملتا ہے۔ امام ابوبکر بیہقی ؒنے  اپنی کتاب سننِ کبری للبیہقی میں کتاب الجمعہ کے تحت ایک عنوان قائم کیاہے: "‌‌باب ما يستحب من القصد في الكلام وترك التطويل" یعنی لمبی گفتگو کے بجائے درمیانی گفتگو کرنا مستحب ہے،اور اس عنوان کے تحت چھ احادیث ذکر کی  ہیں، ذیل میں ان احادیث میں سے چند کا انتخاب کیا جاتا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وعظ ونصیحت طویل نہیں ہوا کرتی تھی۔

سننِ کبری للبیہقی میں ہے:

"عن جابر بن سمرة قال: كنت أصلى مع النبي صلى الله عليه وسلم فكانت صلاته قصدا وخطبته قصدا. رواه مسلم في "الصحيح" عن أبي بكر ابن أبي شيبة وغيره عن أبي الأحوص."
ترجمہ: ”حضرت جابر بن سمرہ (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز اور خطبہ درمیانہ ہوتا تھا۔“

وفيه أيضا:

"عن جابر بن سمرة السوائى قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يطيل الموعظة يوم الجمعة، إنما هى كلمات يسيرة."
ترجمہ: ”جابر بن سمرہ (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وعظ لمبا نہیں ہوتا تھا، یہ تو صرف چند کلمات ہوتے تھے۔“

وفيه أيضا:

"عن أبي وائل قال: خطبنا عمار رضي الله عنه فأبلغ وأوجز، فلما نزل قلنا: يا أبا اليقظان لقد أبلغت وأوجزت، فلو كنت تنفست؟ فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن طول صلاة الرجل وقصر خطبته مئنة من فقهه، فأطيلوا الصلاة وأقصروا الخطبة، وإن من البيان لسحرا". رواه مسلم في "الصحيح."
ترجمہ:ابو وائل فرماتے ہیں کہ عمار(رضي الله عنه) نے ہمیں بلاغت سے بھر پور اور مختصر خطبہ دیا جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا : اے ابو یقظان ! آپ نے بلیغ اور مختصر خطبہ دیا،  اگر آپ کلام کو طول دیتے تو بہتر تھا۔ وہ کہنے لگے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور خطبہ کا چھوٹا ہونا اس کی سمجھداری کی علامت ہے، تم نماز کو لمبا کرو اور خطبہ کو چھوٹا رکھو بعضے بیان تو جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔

وفيه أيضا:

"عن أبي وائل، عن عمرو بن شرحبيل قال: قال عبد الله: إن طول الصلاة وقصر الخطبة مئنة من فقه الرجل. يقول: علامة."
ترجمہ:”عمرو بن شرجیل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رضي الله عنه) نے فرمایا : نماز کا لمبا ہونا اور خطبے کا چھوٹا ہونا آدمی کی سمجھداری کی علامت ہے۔“

(كتاب الجمعة، ‌‌باب ما يستحب من القصد في الكلام وترك التطويل، 3/ 294 - 295، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144607102027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں