
میرا کپڑے کا کاروبار ہے، میرے کچھ سوالات ہیں:
1.ہم کسی بڑے برانڈ یا کمپنی (مثلاً پرس، .j، وغیرہ) سے کوئی بھی چیز خریدتے ہیں، چونکہ وہ کارخانہ یا تو ایکسپائر ہوتا ہے یا اضافی ہوتا ہے، ہم اسی برانڈ، یا کمپنی کے نام سے بیچتے ہیں،ہم خراب اور صحیح کی چھانٹی کر کے الگ الگ ریٹ پر فروخت کرتے ہیں، تو کیا یہ فعل شریعت کی رو سے ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں؟
2.ہم بازار سے اچھا یا ہلکا کپڑا خرید کر اس پر خود لیبل لگاتے ہیں، جس پر مختلف کمپنیوں کے لوگو ہوتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ کپڑا ان کمپنیوں یا برانڈز میں سے کسی کا بھی ہو سکتا ہے، اور ہم اپنے گاہک کو اس حوالے سے ساری تفصیل بتا دیتے ہیں۔ تو کیا یہ فعل ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں؟
3.بعض لوگ انہی مذکورہ برانڈ (پرس، .j، وغیرہ) یا کمپنیوں کا نام یا لیبل لگا کر اسے پیک بھی کرتے ہیں، اور ہم ان سے یہ مال خریدتے ہیں۔ پھر ہم اپنے کسٹمر سے کہتے ہیں کہ ہم نے یہ باہر سے لیا ہے، (یعنی بازار سے خریدا ہے)۔ اب جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ لوگ دھوکہ دے کر (دوسروں کا نام استعمال کر کے، حالانکہ بنایا خود ہے) بیچ رہے ہیں، تو کیا ہمارے لیے اسے خرید کر کاروبار کے طور پر آگے بیچنا جائز ہے؟
4.ہم اپنے کسٹمر کو لیبل والا کپڑا بیچتے ہیں، یعنی کپڑے پر کسی اچھے برانڈ کا لیبل لگا ہوتا ہے، لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ واقعی اسی برانڈ کا ہے یا نہیں۔ اگر کسٹمر پوچھے کہ کیا یہ اسی برانڈ کا ہے، تو ہم کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں۔ تو کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
سائل کے پیش کردہ سوالات کے جوابات درج ذیل ہے :
1. اگر آپ اصل کمپنی یا برانڈ (مثلاً پرس، .J وغیرہ) کا مال ہی خریدتے ہیں، چاہے وہ فاضل ہو یا ایکسپائر ہو، اور اسی کو اسی برانڈ کے نام سے بیچتے ہیں، نیز خراب اور صحیح کو الگ الگ واضح کر کے فروخت کرتے ہیں،ایکسپائر ہونے کی صورت میں گاہک کو پیشگی مطلع کردیتے ہیں، تو یہ صورت جائز ہے، بشرطیکہ کسی قسم کا دھوکہ، غلط بیانی یا حقیقت کو چھپانا نہ ہو۔
2. بازار سے عام کپڑا خرید کر اس پر خود مختلف کمپنیوں کے لیبل لگانا، اگرچہ آپ گاہک کو حقیقت بتا دیتے ہوں، تب بھی یہ عمل ناجائز ہے، کیونکہ اس میں دھوکے کا پہلو پایا جاتا ہے اور برانڈ کی جھوٹی نسبت شامل ہے، جو شرعاً درست نہیں۔
3. جس مال کے بارے میں آپ کو علم ہو کہ وہ جعلی لیبل لگا کر بنایا گیا ہے، اسے خریدنا اور آگے بیچنا دھوکہ دہی ہے ، آپ کو معلوم بھی ہوتاہے کہ اس پر لیبل جعلی ہے اس کے باوجود گاہک کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا جاتا تو یہ صورت بھی جائز نہیں ہے۔
4. اگر آپ ایسے لیبل والا کپڑا بیچتے ہیں جس کے بارے میں آپ کو یقین نہیں کہ وہ اصل برانڈ کا ہے، اور گاہک کے پوچھنے پر صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں،گاہک اپنی مرضی سے خریدتا ہے تو یہ صورت جائز ہے ۔
مجمع الزوائد میں ہے:
"وعن عبد اللہ بن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من غشنا فلیس منا والمکر والخداع في النّار."
(کتاب البیوع، باب الغش، ج: 4، ص: 139، ط: دار الفکر، بیروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام."
(كتاب البيوع،باب خيار العيب، ج: 5،ص: 47، ط: سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"كتمان عيب السلعة حرام وفي البزازية وفي الفتاوى إذا باع سلعة معيبة عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته قال الصدر لا نأخذ به. اهـ. وقيده في الخلاصة بأن يعلم به."
(کتاب البیع، باب خيار العيب، ج: 6، ص:38، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100409
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن