بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

جیب میں جوئے کے پیسے ہونے کی صورت میں نماز کا حکم


سوال

 جوئے کے پیسے اگر جیب میں ہوں  تو اس کے ساتھ نماز پڑھنے یا دوسرے عبادات کرنے کا کیا حکم ہے؟  کیا نماز اور دوسرے عبادات پر کوئی اثر پڑتا ہے ؟

جواب

قرآن و حدیث کی رو سے جوا کھیلنا ناجائز اور حرام ہے اور جوے سے کمائے گئے پیسے بھی حرام ہیں، اگر  غفلت میں یا لاعلمی  سے جوے کے پیسے حاصل کرلیے ہوں تو اس کا  حکم یہ ہے کہ اس رقم کواصل مالکان معلوم ہونے کی صورت میں اصل مالکان کو لوٹادی جائے اوراگراصل مالکان کولوٹانا ممکن نہ ہوتو بلانیتِ ثواب فقراء میں تقسیم کردی جائے، لیکن جوے سمیت ہر طرح کی حرام کمائی والی رقم کا "خبث" باطنی ہے، حرام کمائی کی ناپاکی ظاہری نہیں ہے، اس لیے  نماز کی حالت میں جیب میں کسی بھی قسم کی حرام کمائی والے پیسے جیب میں ہونے کی صورت میں نماز ادا ہوجائے گی بشرطیکہ نوٹوں پر کوئی ظاہری نجاست نہ لگی ہوئی ہو۔

قرآنِ کریم میں ہے:

﴿ يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون﴾ [المائدة: 90]

ترجمہ :اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں، سو ان سے بالکل الگ رہو؛ تاکہ تم کو فلاح ہو۔ 

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر".

(4/483، کتاب البیوع  والأقضیة، ط: مکتبة رشد، ریاض)

أحکام القرآن  میں ہے:

"ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار، قال ابن عباس: إن المخاطرة قمار، وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال، والزوجة، وقد كان ذلك مباحاً إلى أن ورد تحريمه".

(أحکام القرآن للجصاص، 1/ 398،  باب تحریم المیسر، سورۃ البقرۃ، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت - لبنان)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص".

 (6 / 403، کتاب الحظر والاباحۃ، ط ؛ سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200462

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں