بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مریض کو غلط دوا تجویز کرنے کی صورت میں ضمان کا حکم


سوال

میں میڈیکل کا طالب علم ہوں۔ سن 2020ء سے فارمیسی اور کلینک میں شاگردی و کام کرتا رہا ہوں۔ جنوری 2023ء میں ایک پرائیویٹ کلینک میں ملازم تھا جہاں مریضوں کو عام دوائیں اور انجکشن دیتا تھا۔

اسی دوران تقریباً 55 سالہ ایک مریض آیا جسے سینے کے درد کی شکایت تھی۔ میں نے اپنی لاعلمی اور کم تجربہ کاری کی وجہ سے پہلے اسے ٹراماڈول انجکشن دیا (جو معیاد کے قریب تھا لیکن قابلِ استعمال تھاابھی دوماہ میعاد ختم ہونے میں  باقی تھے )، پھر بعد میں کچھ عام دوائیں (ازیتھرومائسین، سیٹریزین، کھانسی کا شربت) دیں۔ ECG کا مشورہ بھی دیا  اور ECGاس نے کروایاتھالیکن میں اسے پڑھ نہیں سکا اور مریض کے بیان پر اکتفا کیا۔

پھر تقریبا سات یا آٹھ دن  بعد وہ شخص اچانک فوت ہوگیا۔

اب میں  شدید وسوسے اور غم میں مبتلا ہوں کہ شاید میری دوائیں یا انجکشن اس کی موت کا سبب بنے ہوں، یا میں نے بروقت کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس ریفر نہیں کیا جس سے تشخیص میں تاخیر ہوئی۔ حالانکہ یقینی طور پر یہ بات ثابت نہیں کہ مریض میری دوا یا انجکشن کی وجہ سے فوت ہوا۔ اس کے گھر والوں نے بھی کبھی مجھ سے کوئی شکایت نہیں کی، لیکن ضمیر پر بوجھ اور وسوسے کی شدت نے مجھے سخت اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔

اب میرا سوال یہ ہے:

1. کیا یہ صورت قتلِ خطا کے حکم میں شمار ہوگی؟

2. اگر قتلِ خطا ہے تو کیا میری سچی توبہ، روزے اور پشیمانی میرے لیے کفارہ بن جائیں گے یا باقاعدہ کفارہ لازم ہوگا؟

وضاحت:مذکورہ شخص دل کا مریض تھا ،میں نے جو انجکشن اس کو لگایا وہ انجکشن دل کے مریضوں کےلیے مفید ہے۔البتہ جو دوائیں میں نے دی وہ دل کےمریضوں کےلیے نقصان دہ ہیں ۔یہ دوائیں میں نے صرف اس کو لکھ کر دی تھیں، میں نے اس کو پلائی نہیں تھیں،  اس نے خود یہ دوائیں استعمال کیں ۔اور میں نےاس کی اجازت سے اس کاعلاج کیاہے۔ڈاکٹر نہیں ہوں بلکہ طب کاطالب علم ہوں ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائل جب تک سرٹیفائڈ  ڈاکٹر  نہیں بن جاتا، اس کےلیے ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں کسی کا علاج کرنے ، اور  دوا تجویز کرنے  کی شرعا اجازت نہیں ،پس اگر اس نے ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کے بجائے خود دوا تجویز کرکے دی تھی، بذات خود پلائی نہیں تھی،جس کے استعمال کے سات آٹھ روز بعد مذکورہ مریض  کی وفات ہوگئی ہو،  تو اس کا ضامن  سائل نہیں ہوگا، اور نہ ہی یہ موت قتل خطا شمار ہوگی،  سائل پر نہ ہی دیت لازم ہوگی، اور نہ ہی کوئی کفارہ لازم ہوگا، البتہ توبہ و استغفار کرنا لازم ہوگا اور اگر یہ معاملہ عدالت میں جائے تو جج مناسب سزا دے سکے گا۔  لہذا سائل کی جب تک تعلیم مکمل نہ ہوجائے، اس وقت تک ماہر ڈاکٹر  کی سرپرستی  کے بغیر ہرگز کسی کا علاج نہ کرے،  البتہ اگر سائل نے خود دوا پلائی ہوتی، اور فورا ہی مریض کی وفات ہوجاتی، تو  اس صورت میں سائل اس کی موت کا ضامن ہوتا۔

1۔مسئولہ صورت قتل خطا میں داخل نہیں ۔

2۔بے احتیاطی کرنے پر صدق دل سے توبہ واستغفار کرے۔

بذل المجهود في حل سنن أبي داود میں ہے: 

حدثنا محمد بن العلاء، نا حفص، نا عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، حدثني بعض الوفد الذين قدموا على أبي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أيما طبيب تطبب على قوم لا يعرف له تطبب قبل ذلك فأعنت، فهو ضامن".

قال عبد العزيز: أما إنه ليس بالنعت إنما هو قطع العروق والبط والكي.(حدثنا محمد بن العلاء، نا حفص، نا عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، حدثني بعض الوفد الذين قدموا على أبى) من التابعين (قال) بعض الوفد: (قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيما طبيب تطبب) أي عالج (على قوم لا يعرف له تطبب قبل ذلك فأعنت) أي أفسد وأهلك (فهو ضامن).(قال عبد العزيز) أي الراوي المذكور (أما إنه ليس بالنعت) أي حكم الضمان ليس بالوصف باللسان، وكذا حكم الكتابة، فإنه إذا وصف الدواء لإنسان فعمل بالمريض فهلك لا يلزم الطبيب الدية (إنما هو) أي حكم الضمان (قطع العروق والبط) أي الشق (والكي) بالنار.

(أول كتاب الديات،باب  فيمن تطبب ولا يعلم منه طب فأعنت،ج:12،ص: 692،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي)

احسن الفتاوی میں ہے:

"طبیب جاہل کا حکم "

"اس کے لئے علاج کرنا جائز نہیں اور بہر صورت پورا ضمان و اجب ہوگا ، خواہ اصول طبیہ کے مطابق علاج کرے یا ان کے خلاف ، مریض یا اس کے ولی کی اجازت سے علاج کرے یا بلا اجازت ۔

تنبیہ : وجوب ضمان اس صورت میں ہے کہ علاج میں ڈاکٹر یا طبیب کا اپنا ہاتھ استعمال ہوا ہو، مثلاً آپریشن کیا ہو یا انجکشن لگایا ہو یا اپنے ہاتھ سے دوا پلائی ہو ، اگر دوا بنا کر یا کہہ کر مریض کو دے دی ، مریض نے خود اپنے ہاتھ سے دوا پی تو ضمان واجب نہ ہوگا۔البتہ تعزیر بہر صورت واجب ہے۔"

(کتاب الجنایۃ  والضمان، ج:8، ص: 518، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144704100783

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں