بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جہیز کے سامان کا حکم /طلاق کی عدت اور نفقہ/شادی کے موقع پر سسرال کی طرف سے ملنے والے سونے کا حکم/ بچہ کی پرورش


سوال

آج سے تقریبا 5 دن قبل میرے داماد نے میری بیٹی کو طلاق دےدی،میں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں سامان دیا تھاجوکہ ابھی میرے سابقہ داماد کے گھر پر ہے،بیٹی کو واپس میں اپنے گھر لے آیاہوں۔سوال یہ ہے کہ:

1۔اس جہیز کے سامان کا کیا حکم ہے جو میں نے اپنی بیٹی کو دیا تھا؟

2۔طلاق کی عدت کتنی ہوگی؟عدت میں نفقہ کس کے ذمہ ہوگا؟

3۔جو سونا وغیرہ میری بیٹی کے سسرال نے بنا کردیاتھااس کا کیا حکم ہے؟سسرال والوں نے جو سونا بناکردیا تھا وہ اس وقت انہوں نے میری بیٹی کے قبضہ میں دےدیا تھا طلاق سے ایک مہینہ پہلے سونا واپس لے لیا تھا۔

4۔میری بیٹی کی ایک بیٹی بھی ہے ،اگر داماد اس کو لینا چاہے ،خود پرورش کرنا چاہے توکیا بیٹی کی بیٹی کو اس کے باپ کے حوالہ کرسکتے ہیں؟

جواب

1۔جہیز کا سامان عورت کی ملکیت ہوتا ہے،طلاق کے بعد عورت کو اپنے جہیز کا سامان واپس لینے کا پورا حق حاصل ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها."

(ج:3 /ص:158، باب المہر، ط: سعید)

2۔ سائل کی بیٹی اگر حاملہ نہیں ہےتو طلاق کے بعد سے پوری تین ماہوریاں عدت گزارنالازم ہےاور  اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل یعنی بچہ کی پیدائش تک ہوگی۔

طلاق  کے بعد عدت مکمل ہونے تک مطلقہ بیوی کو رہائش فراہم  کرنا  اور  اس کے نفقہ کا انتظام کرنا شوہر پر لازم ہوتا ہے، پس  طلاق  کے بعد اگر شوہر مطلقہ  بیوی کو رہائش  فراہم نہ کرتے ہوئے اسے میکے بھیج دے، تو اس صورت میں بھی نفقہ کی فراہمی  شوہر پر لازم ہوتی ہے، تاہم طلاق کے بعد اگر مطلقہ بیوی شوہر کی جانب سے فراہم کردہ رہائش گاہ سے اپنی مرضی سے چلی جائے، جس میں شوہر کی رضامندی نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ نفقہ کی حق دار نہیں ہوتی، یہاں تک کہ شوہر کی جانب سے فراہم کردہ رہائش گاہ واپس آجائے۔

فتاوى شامی میں ہے:

"(و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية كخيار عتق، وبلوغ وتفريق بعدم كفاءة النفقة والسكنى والكسوة) 

(قوله وتجب لمطلقة الرجعي والبائن) كان عليه إبدال المطلقة بالمعتدة؛ لأن النفقة تابعة للعدة، وقيد بالرجعي والبائن احترازا عما لو أعتق أم ولده فلا نفقة لها في العدة كما في كافي الحاكم، وعما لو كان النكاح فاسدا ففي البحر لو تزوجت معتدة البائن وفرق بعد الدخول فلا نفقة على الثاني لفساد نكاحه ولا على الأول إن خرجت من بيته لنشوزها. وفي المجتبى: نفقة العدة كنفقة النكاح.

وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود، وأطلق فشمل الحامل وغيرها والبائن بثلاث أو أقل كما في الخانية."

(کتاب الطلاق،باب النفقۃ،ج3،ص609،ط؛سعید)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وهي في) حق (حرة) ولو كتابيةً تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعياً (أو فسخ بجميع أسبابه) ... (بعد الدخول حقيقة، أو حكماً) أسقطه في الشرح، وجزم بأن قوله الآتي: "إن وطئت" راجع للجميع، (ثلاث حيض كوامل)؛ لعدم تجزي الحيضة، فالأولى لتعرف براءة الرحم، والثانية لحرمة النكاح، والثالثة لفضيلة الحرية."

(کتاب الطلاق، باب العدۃ، 3/ 504، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الطلاق باب العدۃ 1 / 528، دار الفکر)

3۔ شادی کے موقع پر مہر کے علاوہ  جو سونا  لڑکی کو سسرال والوں کی طرف سے ملاتھا ،اس کا حکم یہ ہے کہ  :

  • اگر یہ سونا  لڑکے یا اس کے گھروالوں نے لڑکی کو ملکیت کے طورپر  دیا تھا ،یعنی دیتے وقت یہ صراحت کی تھی کہ یہ سوناہدیہ(گفٹ) ہے اور قبضہ بھی دےدیا تھا تو یہ سونا شرعًا لڑکی کی ملکیت ہے ،طلا ق کے بعد لڑکی  سے واپس نہیں لیا جاسکتا۔
  •  اگر لڑکی کو  سونا  اس صراحت کےساتھ دیا تھاکہ  یہ عاریت(استعمال کے لئے)   ہے،تو  یہ سونا لڑکی کی ملکیت نہیں ہے،جس نے دیا تھا  اس کی ملکیت ہے اور وہ واپس لے سکتا ہے۔
  •  اگر  سونا دیتے وقت لڑکے والوں نے  ہدیہ یا عاریت کی کوئی  صراحت نہیں کی تھی تو ایسی صورت میں لڑکے کی برادری کے عرف کااعتبار ہوگا ،یعنی لڑکےکی برادری کے عرف میں اگر ملکیت کے طورپر  دینے کا رواج ہے  تو سونا لڑکی کی ملکیت شمار ہوگا ، اگر عاریت کے طور پر دینے کا رواج ہے  تو  لڑکی کی ملکیت نہیں ہوگا ۔
  • اگر لڑکےکی برادری  کا عرف متعین  نہ ہو تو پھر  ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے یہ سونا لڑکی کے لیے  ہدیہ یعنی گفٹ ہی  شمار ہوگا،لڑکے  کے لیے واپس لینا جائز نہیں ہو گا۔

جن صورتوں میں سونا لڑکی  کی ملکیت ہے، اس سے جبرا ً واپس مانگنا یا اگر لڑکے یا اس کے خاندان کے پاس ہو ،لڑکی کو ادا نہ کرنا شرعًا غصب اور حرام ہوگا اور جن صورتوں میں سونا لڑکی کی ملکیت نہیں ہےلڑکی کے لیے اس  کا  روکناجائز نہیں  ہوگا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحةً، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هديةً لا من المهر، ولا سيما المسمى صبحةً، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضاً".

( کتاب النکاح، باب المهر،3/ 153، ط: سعید)

وفیه أیضاً:

"والمعتمد البناء على العرف كما علمت".

(کتاب النکاح،باب المهر،3/157،  ط: سعید)

4۔صورت مسئولہ میں بچی کی   نو سال کی عمر تک ماں کو اس کی  پرورش کا حق  ہے اور خرچہ سب باپ کے ذمہ ہے ،اس دوران باپ اپنے بچوں سے وقتا فوقتا مل سکتا ہے، پھر جب پرورش کی یہ مدت پوری ہوجائے تو باپ کو حق ہوگا کہ اپنی اولاد کو اپنے پاس بلالے اور ان کی تعلیم وتربیت کرے ۔

لیکن اگر پرورش کی مذکورہ مدت میں ماں کہیں اور شادی کرلیتی ہے یا   اپنا حق ساقط کردیتی ہے اور پرورش نہیں کرتی  تو پھریہ حق  بچوں کی نانی کا ہے، اگر نانی وفات پاگئی  ہو یا پرورش سے انکار کردےتو پھر پرورش کا حق دادی کو ہوگا،دادی کے بعد خالہ ،پھوپھی وغیرہ کو بالترتیب یہ حق حاصل ہوگا،اگر سب اپنا حق ساقط کردیں اور  اس پر راضی ہوں کہ بچے ابھی سے اپنے والد کی پرورش اور تربیت میں رہیں تو والد ان کو اپنی پرورش میں رکھ سکتا ہے۔ 

فتاویٰ شامی میں ہے:

ـ"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.(وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. (وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد زيلعي. ۔۔(قوله: وبه يفتى) قال في البحر بعد نقل تصحيحه: والحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية."

( کتاب الطلاق باب الحضانۃ ج3،ص566 ط:سعید)

وفيه أيضا:

"(ولا تجبر) من لها الحضانة (عليها إلا إذا تعينت لها) بأن لم يأخذ ثدي غيرها أو لم يكن للأب ولا للصغير مال به يفتى خانية وسيجيء في النفقة...وإذا أسقطت الأم حقها صارت كميتة، أو متزوجة فتنتقل للجدة بحر»(ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر (ثم الأخت لأب وأم ثم لأم) لأن هذا الحق لقرابة الأم (ثم) الأخت (لأب) ثم بنت الأخت لأبوين ثم لأم ثم لأب (ثم الخالات كذلك) أي لأبوين، ثم لأم ثم لأب، ثم بنت الأخت لأب ثم بنات الأخ (ثم العمات كذلك) ثم خالة الأم كذلك، ثم خالة الأب كذلك ثم عمات الأمهات والآباء بهذا الترتيب؛ ثم العصبات بترتيب الإرث، فيقدم الأب ثم الجد ثم الأخ الشقيق، ثم لأب ثم بنوه كذلك، ثم العم ثم بنوه."

 (کتاب الطلاق، باب الحضانة،3/ 559 ، 562،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں