
وزیرستان ضلع جنوبی تحصیل شکئی علاقہ مانتوئی میں قدیم زمانہ سے جامع مسجد بنام جامع مسجد درس واقع ہے،اس مسجد میں نماز جمعہ تقریبا 200سال پہلے سے مولانا حمزاللہ مجاہد عرف سرکائی آبا نے شروع کی تھی جو اب تک جاری ہے،پورے علاقہ مانتوئی میں 19چھوٹے گاؤں ہیں،جن کی کل آبادی مردم شماری کے لحاظ سے 17000ہے،ان میں سے بعض گاؤں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں،جبکہ بعض میں 18سے200گز کا فاصلہ ہے،علاقہ میں دکانیں بصورت مارکیٹ بھی ہیں اور علیحدہ علیحدہ بھی ہیں،کل دکانیں 28ہیں،جن میں روزمرہ کی اشیاءمثلا غلہ،کپڑے،ڈیزل،پٹرول اور دیگر ماکولات،مشروبات مل جاتے ہیں،اس کے علاوہ 6میڈیکل اسٹور،اور 5آٹے کی چکی کی مشین کی دکانیں ہیں،تھانہ بھی موجود ہے،آج تك مفتی حضرات اور علماءنے یہاں جمعہ لوگوں کو پڑھایا بھی ہےاور کسی قسم کی کوئی نکیر نہیں کی ہے،حال میں ایک مفتی صاحب نے عدم جواز کا فتوی دیا ہے،سوال یہ ہے کہ کیا اس علاقہ میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں جب مذکورہ گاؤں میں اگر واقعۃجمعہ 200سال سے قائم کیا جارہا ہےتو اسے جاری رکھا جائے،اقامت جمعہ ترک نہ کی جائے۔
مفتی ہند حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
جہاں کافی عرصہ سے جمعہ پڑھا جاتا ہو
(سوال) ایک بستی میں ہمیشہ سے لوگ جمعہ پڑھتے ہیں اب ایک مولوی صاحب بند کرانا چاہتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں ؟ اس ملک گجرات میں چھوٹی چھوٹی بستیاں ہندوؤں کی بسائی ہوئی ہیں اور ان میں پانچ یا سات گھر مسلمانوں کے ہوں وہاں جمعہ شروع کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب (٣٦٥) جن بستیوں میں قدیم سے جمعہ پڑھا جاتا ہے اور جمعہ چھوڑانے سے لوگ نماز پنج وقتہ بھی چھوڑ دیتے ہیں ایسی بستیوں میں جمعہ پڑھنا چاہیے تاکہ اسلام کی رونق اور شوکت قائم رہے اور جو لوگ کہ ایسے گاؤں میں جمعہ پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے وہ نہ پڑھیں ان سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے پڑھنے والے بھی گناہ گار نہیں ہیں اور نہ پڑھنے والے بھی گناہ گار نہیں آپس میں اختلاف اور فتنہ و فساد پیدا کرنا حرام ہے ہاں جن چھوٹے گاؤں میں پہلے سے جمعہ قائم نہیں ہے وہاں قائم نہ کریں اور جہاں پہلے سے قائم تھا پھر چھوڑ دیا اور اس کی وجہ سے لوگوں نے نماز جمعہ چھوڑ دی وہاں پھر شروع کر دیں۔
(کفایت المفتی ،کتاب الصلوٰۃ، پانچوں باب: نماز جمعہ، فصل دوم شرائط جمعہ، ج:3، ص:235، ط:دار الاشاعت)
امداد الفتاوی میں ہے:
’’اور کبیرہ اور صغیرہ میں مابہ الفرق اگر آبادی کی مقدار لی جاوے تو اس کا مدار عرف پر ہوگا اور عرف کے تتبع سے معلوم ہوا کہ حکامِ وقت جو کہ حکمائے تمدن بھی ہیں، چار ہزار آبادی کو قصبہ میں شمار کرتے ہیں‘‘۔
(کتاب الصلوۃ ،باب صلوۃ الجمعۃ والعیدین ،ج:1،ص:488،ط:دارالعلوم)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"واستشهد له بما في التجنيس عن الحلواني أن كسالى العوام إذا صلوا الفجر عند طلوع الشمس لا يمنعون لأنهم إذا منعوا تركوها أصلا، وأداؤها مع تجويز أهل الحديث لها أولى من تركها أصلا."
(كتاب الصلاة، باب العيدين، ج: 2، ص: 171، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100211
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن