
میں ایک دینی ادارے میں مدرس ہوں اور ساتھ ہی میں ایک سرکاری ملازم کی حیثیت سے ایک گرلز ہائی اسکول میں کلرک کے طور پر کام کر رہا ہوں، میرے اسکول میں میرے لیے الگ دفتر کا کمرہ مخصوص ہے، جہاں میں اور میرے ساتھ دو سے تین نائب قاصد (مرد حضرات) موجود ہوتے ہیں۔ تاہم، کبھی کبھار کام کے سلسلے میں ہماری آفیسر (جو کہ خاتون ہیں) دفتر میں آتی ہیں، یا بعض اوقات خواتین اسٹاف بھی اپنے کام سے کچھ پوچھنے کے لیے آتی ہیں ، بعض اوقات پردے میں، اور بعض اوقات بغیر پردے کے۔
اسی طرح مجھے بھی اپنے دفتر تک پہنچنے کے لیے اسکول کی حدود سے گزرنا ہوتا ہے تو کیا ایسی جگہ نوکری کرنا میرے لیے شرعی طور پر درست ہے؟ اگرچہ میں خود خواتین کو دیکھنے سے گریز کرتا ہوں، لیکن خواتین مجھے دیکھ سکتی ہیں تو کیا ان کے دیکھنے پر مجھ پر کوئی وبال ہوگا؟
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسکول میں جمعہ کے دن دینی بیان کی ترتیب رکھی جاتی ہے، جس میں تمام طالبات اور معلمات شریک ہوتی ہیں۔ اکثر دینی مسائل میں مجھ سے تحریری یا فون کے ذریعے راہ نمائی بھی لی جاتی ہے۔
مجھے اپنے موجودہ ادارے میں مجاز افسر کی طرف سے بہت سی سہولیات حاصل ہیں، جیسے دینی یا دنیاوی امور کے لیے بہ آسانی رخصت ملنا، اور رشوت یا دیگر ناجائز امور سے مکمل حفاظت۔ البتہ، اگر میں اپنا تبادلہ کسی مردانہ ادارے میں کروا لوں، تو خدشہ ہے کہ وہاں ان سہولیات کا فقدان ہو اور مجھے مجبوراً ایسے امور کا سامنا کرنا پڑے، جو شرعاً درست نہ ہوں، مثلاً رشوت یا دیگر غیر شرعی ذمہ داریاں۔
لہٰذادریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میری موجودہ ملازمت خواتین کے اسکول میں شرعاً جائز ہے؟ یا تبادلہ کروا لینا چاہیے؟ اگرچہ وہاں دینی خدمت محدود اور شرائط دشوار ہوں؟برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں اور فتویٰ عنایت کریں۔
واضح رہے کہ مرد کے لیے نامحرم عورت سے بلاضرروت گفتگو، ہنسی مذاق اور بے تکلفی کرنا جائز نہیں، نیز یہ عمل فتنہ کا موجب ہے، البتہ جہاں ضرورت ہو وہاں پردے کے اہتمام کے ساتھ صرف بقدرِ ضرورت شرعا گفتگو کی اجازت ہے، اس صورت میں جانبین اپنے لہجہ سنجیدہ رکھیں۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر آپ مذکورہ ادارے میں رہتے ہوئے بد نظری یا عورتوں کےفتنہ سے محفوظ رہ کر حسب ضرورت بات کرسکتے ہیں اور کسی قسم کی بد نظری یاعورتوں کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو مذکورہ ادارے میں کام کرنے میں کوئی حرج نہیں ، اس صورت میں اگر خواتین آپ کو دیکھ رہی ہوں تو اس کا وبال آپ پر نہیں ہوگا۔
الدعوات الکبیر للبیہقی میں ہے:
"عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قيل لي يا محمد قل تسمع وسل تعطه قال فقلت اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات، وحب المساكين، وأن تغفر لي وترحمني، وإذا أردت في قوم فتنة فتوفني وأنا غير مفتون."
(باب جامع ما كان يدعو به النبي صلى الله عليه وسلم ويأمر أن يدعى به، ج:1، ص:294، ط:غراس للنشر والتوزيع)
فتاوی شامی میں ہے:
'' فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها؛ لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن، وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة ''.
(ج: 3، ص: 72، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100950
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن