
شریعت کا اصول یہ ہے کہ محض شک اور گمان کی بنیاد پر کسی چیز کو ناجائز یا نقصان دہ قرار نہیں دیا جاتا۔ جب تک کسی چیز کے بارے میں یقینی علم نہ ہو کہ اس میں سحر یا کوئی شرعی خرابی ہے، وہ اصل کے اعتبار سے جائز اور پاک سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے صرف اس شبہ کی وجہ سے کہ دینے والے لوگ شاید جادو وغیرہ کرتے ہوں، ان کے دیے ہوئے کپڑوں کو حرام یا نقصان دہ نہیں کہا جا سکتا۔اگر دل میں وسوسہ یا بے اطمینانی ہو تو روزانہ قرآنِ کریم کی یہ آیات پڑھ لیں جائے، سورۃ الفاتحہ، آیت الکرسی، سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس ۔ اس کے بعد ان کو استعمال کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔البتہ اگر دل پھر بھی مطمئن نہ ہو تو آپ انہیں کسی مستحق کو بطور صدقہ دے سکتے ہیں۔ صرف شک کی بنیاد پر انہیں ضائع کرنا جائز نہیں ہے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت کعب احبار رحمہ اللہ جو پہلے یہود کے بڑے علماء میں سے تھے ،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمان ہوگئے تھے،انہوں نے بیان کیا کہ اگر میں یہ چند کلمات نہ پڑھا کرتا تو یہود جادو سے مجھے گدھا بنا دیتے وہ الفاظ یہ ہیں:
" أَعُوْذُ بِوَجْهِ اللهِ الْعَظِيْمِ الَّذِيْ لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ، وَبِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ الَّتِيْ لَايُجَاوِزُهُنَّ بَـرٌّ وَّلَا فَاجِرٌ، وَبِأَسْمَآءِ اللهِ الْحُسْنىٰ كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ۔ "
الأسماء والصفات للبيهقي میں ہے :
"عن القعقاع بن حكيم، قال: إن كعب الأحبار قال: لولا كلمات أقولهن لجعلتني يهود حماراً. فقيل له: ما هي؟ فقال: أعوذ بوجه الله العظيم الذي ليس شيء أعظم منه، وبكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر، وبأسماء الله الحسنى كلها ما علمت منها وما لم أعلم، من شر ما خلق وذرأ وبرأ"۔
(2/ 112، 113 بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101726
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن