
اگر کوئی شخص بار بار جادو کروائے تو اس کے نکاح میں جو بیویاں ہوتی ہیں ان کا نکاح باطل ہوجاتا ہے؟ یعنی تجدید نکاح تجدید ایمان اور تجدید اسلام کرنا پڑتا ہے؟ اگر کوئی کسی پر بار بار جادو کروائے اور جنات سے کام لے جو کہ حرام ہے تو اس کا مطلب اس کا نکاح جو پہلی بیویوں سے تھا وہ بار بار ٹوٹا ناں؟ تو کیا بار بار نکاح کرنا پڑے گا انہیں ہر جادو کے بعد ؟
ہر قسم کا جادو کرنا کروانا کفر نہیں ہے بلکہ اگر جا دو میں کفریہ الفاظ ہوں یا کفریہ عقیدہ ہو،یا اس کو حلال سمجھ کر کیاجائے، تویہ کفر ہے اور اگر اس میں کفریہ عقائد وکلمات نہ ہوں اور جادو کرنے یا کرانے والا اس کو حلال بھی نہیں سمجھتا ہو ،لیکن جادو سے لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہو تو یہ فسق اور گناہ کبیرہ ہے، ایسا جادو کرنےیا کروانے والا فاسق ضرور ہوگا، کافر نہیں ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص ایسا جادو کروائے جس پر مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق کفر کا حکم لگتا ہو، تو وہ شخص کافر ہوجائے گا اور ایسے شخص پر تجدید ایمان وتجدید نکاح کرنا ضروری ہے، اوراگر اس پر کفر کا حکم نہ لگتا ہو، تو وہ شخص فاسق کہلائے گا، اس پر کفر کا حکم نہیں لگے گا، اور نہ ہی تجدید نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
مقدمہ شامی میں ہے:
"قد تقع بما هو كفر من لفظ أو اعتقاد أو فعل، وقد تقع بغيره كوضع الأحجار. وللسحر فصول كثيرة في كتبهم. فليس كل ما يسمى سحرا كفرا، إذ ليس التكفير به لما يترتب عليه من الضرر بل لما يقع به مما هو كفر كاعتقاد انفراد الكواكب: بالربوبية أو إهانة قرآن أو كلام مكفر ونحو ذلك اهـ ملخصا، وهذا موافق لكلام إمام الهدى أبي منصور الماتريدي."
(مقدمة، مطلب السحر أنواع، ج:1، ص:45، ط:سعيد)
وفيه أيضا:
"الرضا بالكفر كفر."
(كتاب الجهاد، ج:4، ص:208، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102224
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن