
میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک ہسپتال میں کام کرتا ہوں، وہاں سے کوئی بھی فون آتے ہیں میں دیکھ لیتا ہوں تو مجھے بہت ٹینشن ہوتی ہے کہ فون کیوں آیا، کس لیے آیا۔ اور اگر کبھی کوئی بڑا افسر یا کوئی اور انسان مجھ پر چیختا ہے تو میں بہت ڈر جاتا ہوں اور کبھی کبھی رات کو ایک یا دو بجے اٹھ جاتا ہوں۔ یہ کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ مجھ پر جادو کے اثرات ہیں، برائے مہربانی آپ میری مدد کریں۔
یہ بات حقیقت ہے کہ بعض لوگ جادو کرتے ہیں اور سبب کے درجہ میں اس کا اثر بھی ظاہر ہوتا ہے، لیکن ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا پختہ عقیدہ ہے کہ اس کائنات کے خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہیں اور اس پوری کائنات پر اللہ ہی کا حکم چلتا ہے،ساری کائنات مل کر اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے بڑھ کسی کو فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
سننِ ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن سفر کے دوران میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا کہ آپ علیہ الصلاة والسلام نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا لڑکے! اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کا خیال رکھو اللہ تعالیٰ تمہارا خیال رکھے گا ، اللہ تعالیٰ کے حق کا خیال رکھو گے تو اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے پاؤ گے ، جب تم سوال کا ارادہ کرو تو صرف اللہ تعالیٰ کے آگے دست سوال دراز کرو جب تم دنیا و آخرت کے کسی بھی معاملے میں مدد چاہو تو صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو اور یہ جان لو کہ اگر تمام مخلوق (خواہ عوام ہوں یا خواص انبیاء ہوں یا اولیاء اور ائمہ دین ہوں یا سلاطینِ دنیا) مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہیں (یعنی اگر بفرضِ محال یہ ساری مخلوق اس بات پر اتفاق کر لے کہ وہ سب مل کر تمہیں اگر تمہیں کسی دنیاوی یا اخروی معاملے میں کوئی فائدہ پہنچا دیں تو ہرگز تمہیں نفع نہیں پہنچا سکے گی علاوہ صرف اس چیز کے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر میں لکھ دیا ہے اور اگر دنیا کے تمام مل کر بھی تمہیں کسی طرح کا کوئی نقصان اور ضرر پہنچانا چاہیں تو وہ ہرگز تمہیں کوئی نقصان اور ضرر نہیں پہنچا سکے گے علاوہ صرف اس چیز کے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے قلم اٹھا کر رکھ دیئے گئے اور صحیفے خوشک ہو گئے۔ (ترجمہ از مظاہرِ حق)
لہذا کسی ٹھوس وجہ کے بغیر صرف لوگوں کے کہنے سے وہم نہ کریں، بعض اوقات شیطان کے وساوس کی وجہ سے بھی اس طرح کے توہمات پیدا ہوتے ہیں، سورۃ اعراف میں ارشاد ہے:
"وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ [الأعراف: 200]
"ترجمہ: اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجئیے بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔(بیان القرآن)"
لہذا آپ تعوذ یعنی شیطان سے پناہ مانگنے کی عادت بنائیں اور أعوذ بالله من الشیطان الرجیم کے پڑھنے کا اہتمام کیجیے، اس کے علاوہ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر اپنے اوپر دم کیا کریں، نیزسورۃ المؤمنون کی ان آیات کا ورد کیجیے:
"وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطِينِ (97) وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ (98) [المؤمنون: 97-98] (ماخوذ از اعمالِ قرآنی)
جادو سے حفاظت سے متعلق مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے:
سننِ ترمذی میں ہے:
"2516...عن ابن عباس، قال: كنت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما، فقال: «يا غلام إني أعلمك كلمات، احفظ الله يحفظك، احفظ الله تجده تجاهك، إذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله، واعلم أن الأمة لو اجتمعت على أن ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك، ولو اجتمعوا على أن يضروك بشيء لم يضروك إلا بشيء قد كتبه الله عليك، رفعت الأقلام وجفت الصحف".
(أبواب صفة القيامة والرقائق والورع، باب، 4/ 667 ، ط:مطبعة مصطفى البابي الحلبي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703102126
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن