
شوہر کابیان :
میرے اور میری بیوی کے درمیان کسی قسم کاکوئی جھگڑا نہیں تھا،اور نہ اب ہے ،لیکن ہمارے خاندانوں کی لڑائی کی وجہ سے میرے والدین اور سسرال کی آپس میں لڑائی ہوئی تو دونوں خاندانوں نے مجھے کہا کہ آپ اپنی بیوی کو طلاق دو ،میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دیناچاہتاتھا اور نہ وہ مجھ سے طلاق لیناچاہتی تھی ،لیکن خاندان والوں نے ہم پر زور دیا ،میں پھر بھی طلاق دینے کےلیے تیار نہ تھا ،ایک دن میرے والد اور بھائی مجھے عدالت لےگئے اور میری بیوی کے والدین بھی اسے عدالت لے آئے ،ہم نے عدالت میں ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں تھا،لیکن دونوں خاندانوں کے بڑوں نے بیٹھ کر ایک طلاق نامہ بنوایا ،میں اس وقت قریب نہیں تھا،پھر میرا بھائی مجھے لے کر گیا،اورکہا اس پر دستخط کرو ،اور میرے والد نے دھمکی دی کہ اگر دستخط نہیں کیے تو وہ یاتو اپنے آپ کو یامجھے گولی ماردیں گے تو میں نے طلاق نامہ پڑھے بغیر اس پر دستخط کردیا،اگر میں دستخط نہ کرتا تو یقینا مجھے ماردیتا؛ کیونکہ والد صاحب کے پاس ہروقت پستول ہوتاہے ۔
اور یہ بیان میں حلفیہ دیتاہوں کہ نہ میں نے طلاق نامہ پڑھاتھا اور نہ مجھے کسی نے پڑھ کرسنایا تھا ، اور نہ ہی زبان سے الفاظ بولے تھے ،البتہ اتنامعلوم تھاکہ یہ طلاق نامہ ہے ،اور اس پر مجھ سے دستخط کروارہے ہیں ،اب اس صورت میں طلاق کاشرعی حکم کیاہے؟
اس کے بعد مجھے کہا کہ آپ جاؤ ،پھر میری بیوی سے دستخط کروائے،اور اس وقت میری بیوی حاملہ بھی تھی ۔
اب ہم دونوں نے ایک ساتھ رہناچاہتے ہیں ؛کیونکہ میری دوسال کی بچی بھی ہے ۔
بیوی کابیان :
میرا یہ حلفیہ بیان ہے کہ میرے والد اور والدہ نےکہاکہ ہم آپ کو ماردیں گے ،اور مجھے مارا پیٹا اور عدالت لے کرآگئے ،آپ کو اس پیپر پر دستخط کرناہے ،میں نے اس کو نہ پڑھاتھا ،اور نہ ہی میں نے اپنے شوہر سے طلاق یاخلع کامطالبہ کیاتھا،انہوں نے خود طلاق نامہ پر لکھاکہ وہ طلاق اور خلع کامطالبہ کررہی تھی ،میں نے کبھی کبھی اپنے شوہر سے طلاق یاخلع کامطالبہ نہیں کیا ،اور ہم اب اپناگھر برباد کرنا نہیں چاہتے اور ایک ساتھ رہناچاہتے ہیں ۔
اور شرعا اس بات کاکیاحکم ہے کہ ہمارے خاندان والے ذاتی معاملات کی وجہ سے کوشش کررہے کہ آپ (سائلہ ) کو طلاق ہوجائے ؟
طلاق نامہ کے الفاظ :مسماۃ نازیہ کے مطالبہ پر طلاق ثلاثہ دیتاہوں ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا سائل سے طلاق نامہ پر جبراـ دستخط کروایاگیاہو اور دستخط نہ کرنے کی صورت میں جان سے ماردیے جانے کاقوی اندیشہ ہو اور دستخط کرتے وقت شوہر نے زبان سے طلاق نہ دی ہو تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی ،نکاح بدستور قائم ہے۔
نیز کسی شرعی سبب کےبغیر محض ذاتی تنازعہ کی وجہ سے والدین کااپنے بیٹے کو طلاق دینے پر مجبور نہیں کرناچاہیے ،ایسی صورت میں طلاق دیناجائز نہیں ،جبکہ میاں بیوی ساتھ رہنے پر رضامند بھی ہوں ۔دونوں خاندانوں کے بڑوں کو چاہیے کہ آپس کے معاملات کو باہمی افہام وتفہیم سے حل کریں ۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"هذا وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية."
(کتاب الطلاق،ج:3،ص: 236،ط:سعید)
وفیہ ایضا:
"فهذا صريح في أنه مشروع ومحظور من جهتين وأنه لا منافاة في اجتماعهما لاختلاف الحيثية كالصلاة في الأرض المغصوبة، فكون الأصل فيه الحظر لم يزل بالكلية بل هو باق إلى الآن؛ بخلاف الحظر في النكاح فإنه من حيث كونه انتفاعا بجزء الآدمي المحترم واطلاعا على العورات قد زال للحاجة إلى التوالد وبقاء العالم. وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} أي لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث "أبغض الحلال إلى الله الطلاق."
(کتاب الطلاق،ج:3،ص: 228،ط:سعید)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
”الجواب: بلا وجہ شرعی طلاق دینا کفران نعمت ہے جو اللہ تعالی کو از حد نا پسند اور مبغوض ہے ، اس سے شیطان خوش اور اللہ تعالی ناراض ہوتے ہیں اگر حقیقت میں بیوی کا قصور نہ ہو اور والد اپنے بیٹے کو طلاق دینے پر مجبور کریں تو ان کی اطاعت ضروری نہیں ہے ایسی صورت میں طلاق دینا جائز نہ ہو گا والد کو بھی اپنی بات پر اصرار نہ کرنا چاہئے اور لڑکے کو طلاق دینے پر مجبور نہ کرنا چاہئے ، طلاق دینے سے بچوں کی پرورش تعلیم و تربیت پر بھی بڑا اثر پڑتا ہے۔“
(کتاب الطلاق،ج:8،ص:284،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101027
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن