
دو آدمیوں نے ایک شخص کو اپنے تنازعے کے حل کے لیے حکم بنایا۔ حکم نے مدعی سے گواہ طلب کیا تو مدعی نے کہا کہ میرے پاس گواہ نہیں ہے، اس کے بعد مدعی علیہ کو قسم دینے کے لیے ایک مجلس مقرر ہوئی۔ اس کے بعد مدعی کہنے لگا کہ میرے پاس گواہ موجود ہے، میں گواہ پیش کروں گا، جب کہ ایک مرتبہ حکم کے سامنے وہ یہ کہہ چکا ہے کہ میرے پاس گواہ نہیں ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا مدعی کا گواہ قابلِ قبول ہے یا نہیں؟ یا صرف مدعی علیہ سے قسم لی جائے اور مدعی کے گواہ کی گواہی کا اعتبار نہ کیا جائے؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
اگر کوئی شخص دوسرے شخص پر کسی چیز کا دعویٰ کرے تو شرعاً مدعی کی ذمہ داری ہے کہ اپنے دعویٰ پر شرعی گواہ پیش کرے، اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو پھر مدعا علیہ پر قسم آتی ہے، نیز اگر مدعی پہلے گواہوں کے ہونے کا انکار کردے پھر گواہ پیش کردے تو گواہوں کی گواہی قبول ہو گی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب مدعی نے حکم کے مطالبہ پر گواہوں کے ہونے کا انکار کردیا اور بعد میں دوسری مجلس میں مدعی علیہ سے قسم لینے کے وقت کہا کہ "میرے پاس گواہ ہیں، گواہ پیش کروں گا"، تو گواہوں کی گواہی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا، مدعی علیہ سے قسم لے کر فیصلہ کرنا درست نہیں ہے، اگرچہ مدعی نے اس سے قبل اپنے پاس گواہ نہ ہونے کا اقرار کیا تھا۔ البتہ اگر جھوٹے گواہ پیش کیے تو مدعی اور جھوٹی گواہی دینے والے سخت گناہ گار ہوں گے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وتقبل البينة لو أقامها) المدعي وإن قال قبل اليمين لا بينة لي سراج خلافا لما في شرح المجمع عن المحيط (بعد يمين) المدعى عليه كما تقبل البنية بعد القضاء بالنكول خانية (عند العامة) وهو الصحيح لقول شريح: اليمين الفاجرة أحق أن ترد من البينة العادلة، ولأن اليمين كالحلف عن البينة فإذا جاء الأصل انتهى حكم الخلف كأنه لم يوجد أصلا بحر."
(كتاب الدعوى، سبب الدعوى، ج : 5، ص : 550، ط : سعید)
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے :
"(سئل) هل تقبل البينة لو أقامها المدعي بعد يمين المدعى عليه؟
(الجواب) : تسمع البينة وتقبل على ما هو الصواب كما صرح به في شرح الملتقى والتنوير وغيرهما من الدعوى قال في التنوير وتقبل البينة لو أقامها المدعي بعد يمين المدعى عليه عند العامة وهو الصحيح."
(كتاب الدعوى، ج : 2، ص : 21، ط : دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100685
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن