
میرا اور شوہر کا معمولی جھگڑا ہوا، میں نے شوہر سے کہا: "میری جان چھوڑ دو"۔شوہر نے جواب میں کہا: "چھوڑ دی ہے جان"۔ یہ الفاظ شوہر نے طلاق کی نیت سے نہیں کہے، صرف غصے میں عام جملہ بول دیا۔ شوہر کو کنایہ الفاظ کے بارے میں کوئی علم بھی نہیں تھا۔ بعد میں میں نے مختلف مفتیوں سے پوچھا:
کچھ نے کہا کہ نیت نہ ہو تو طلاق نہیں ہوتی۔ایک نے کہا کہ چاہے نیت نہ ہو پھر بھی طلاق ہو گئی۔یوٹیوب پر ایک مفتی نے کہا کہ "جان چھوڑو" بذاتِ خود طلاق کے الفاظ نہیں ہیں، جب تک اس کے ساتھ واضح الفاظ نہ ہوں۔اب میں پریشان ہوں کہ "چھوڑ دی ہے جان" یہ الفاظ طلاق کے شمار ہوتے ہیں یا نہیں؟ اگر شوہر کی نیت طلاق کی نہ ہو اور اسے کنایہ وغیرہ کا علم بھی نہ ہو، تو کیا نکاح برقرار ہے یا ختم ہو گیا؟
واضح رہے کہ عرف میں جان چھوڑ نے کا لفظ کسی معاملہ کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہ لفظ طلاق کے لیے رائج نہیں ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جھگڑے کے دوران آپ کے ”میری جان چھوڑ دو“ کہنے کے جواب میں شوہر کے الفاظ ”چھوڑ دی ہے جان“ بلا نیت طلاق کہنےسے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(هو)... (رفع قيد النكاح... (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق".
"(قوله هو ما اشتمل على الطلاق) أي على مادة ط ل ق صريحا، مثل أنت طالق، أو كناية كمطلقة بالتخفيف وكأنت ط ل ق وغيرهما كقول القاضي فرقت بينهما عند إباء الزوج الإسلام والعنة واللعان وسائر الكنايات المفيدة للرجعة والبينونة ولفظ الخلع فتح، لكن قوله وغيرهما أي غير الصريح والكناية يفيد أن قول القاضي فرقت، والكنايات ولفظ الخلع مما اشتمل على مادة ط ل ق وليس كذلك، فالمناسب عطفه على ما اشتمل والضمير عائد على ما وثناه نظرا للمعنى لأنه واقع على الصريح والكناية".
(كتاب الطلاق، ج:3، ص:226، ط: سعيد)
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:
"(وأما) الكناية فنوعان: نوع هو كناية بنفسه وضعا، ونوع هو ملحق بها شرعا في حق النية، أما النوع الأول فهو كل لفظ يستعمل في الطلاق ويستعمل في غيره".
(كتاب الطلاق، فصل:وأما الكناية، 3/ 105، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100411
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن