
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے جاننے والے فیس بک میں آن لائن کام اس طرح کرتے ہیں کہ دوسرے کے نام اور تصویر سے آئی ڈی اور پیج بناتے ہیں اور اپنے آپ کو وہاں کا باشندہ ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے مقصد کسٹمر اور گاہک کو اپنی طرف لانا ہوتا ہے۔
اس کام کی تفصیل یہ ہے کہ یہ لوگ فیس بک میں کراچی میں بیٹھ کر امریکہ میں کام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو وہاں کا باشندہ ظاہر کرتے ہیں، اور ان کا کام اےسی ،فرج کی صفائی اور مرمت کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اس طرح اشتہار لگاتے ہیں کہ اے سی کی صفائی اور مرمت ہمارے ہاں 150 ڈالر میں کی جاتی ہے۔ اب جس کو یہ کام کروانا ہوتا ہے وہ ان سے رابطہ کرتا ہے؛ اس آئی ڈی کے ذریعے سے یہ لوگ ان کسٹمر/گاہک سے ان کے گھر کا مکمل پتہ اور ایڈریس لیتے ہیں، اور ان لوگوں کے امریکہ میں جان پہچان کے لوگ اور مزدور ہوتے ہیں۔ تو یہ لوگ ان مزدوروں کو اس کا مکمل پتہ بتا دیتے ہیں؛ وہ مزدور وہاں جا کر کام کرتے ہیں، اور کام کرنے کے بعد جو مزدوری ملتی ہے اس میں سے کچھ ڈالر یا آپسمیںمتعین کردہ ڈالر ان کو دیتے ہیں جنہوں نے ان کو گاہک/کسٹمر تک پہنچایا اور انہیں پتہ بتلایا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس طرح آئی ڈیبنا کر اور اس کے ذریعے کام لا کر دینے اور اس کا کمیشن لینے کا کیا حکم ہے؟
شریعتِ مطہرہ کی رو سے دوسروں کے نام اور تصاویر سے جعلی آئی ڈی یا پیج بنا کر اپنے آپ کو کسی دوسرے ملک کا باشندہ ظاہر کرنا دھوکہ اور فریب ہے، جو شرعاً ناجائز و قابلِ ملامت عمل ہے۔البتہ اگر اس ذریعے سے کیا گیا کام اپنی ذات میں جائز نوعیت کا ہو، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے، تو اس کی اجرت لینا جائز تو ہوگا، مگر جھوٹ اور دھوکہ دہی کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔
صحیح مسلم کی روایت ہے:
"عن أبي هريرة رضی الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني."
(كتاب الإيمان، باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم: من غشنا فليس منا، ج: 1، ص: 69، رقم الحدیث: 102، ط:دار طوق النجاة)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا۔ آپ کی انگلیوں کو نیچے کی طرف نمی محسوس ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ کیا ہے اے غلہ کے مالک؟اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم نے اسے اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیں؟پھر فرمایا:جس نے دھوکا دیا، وہ مجھ سے نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"غصب حانوتا واتجر فيه وربح يطيب الربح كذا في الوجيز للكردري."
(کتاب الغصب، الباب التاسع في الأمر بالإتلاف وما يتصل به، ج: 5، ص: 142، ط: دار الفكر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100095
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن