بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جادو کرنے والے کی امامت / مسجد کی موقوفہ زمین کی ملکیت اور اس پر مدرسہ بنانے کا حکم


سوال

1: ایک شخص جادو کرتا ہے، اس کے پیچھے  نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

2:کیا کوئی شخص  موقوفہ مسجد کی ملکیت کا دعویٰ کرسکتا ہے؟

3: مسجد کی موقوفہ زمین پر بنات کا مدرسہ تعمیر کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

1:  جادو کرنا ،  کروانا یا اس میں تعاون کرنا سب ناجائز ،  حرام اور سخت گناہ ہے، اگر کوئی شخص واقعۃً  جادو کرتا ہو اور وہ ثابت بھی ہو، محض شک  یا شبہ کی بنیاد پر یہ دعویٰ نہ ہو تو ایسی شخص کی  اقتداء میں نماز ادا کرنا  جائز نہیں ہے۔

2: وقف جب درست اور صحیح ہوجائے  تو موقوفہ چیز قیامت تک کے لیے  واقف کی ملکیت سے  نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے،ا س کے بعد اس کی خرید وفروخت کرنا، ہبہ کرنا، کسی کو مالک بنانا  جائز نہیں ہوتا، لہذا اگر واقف بھی اس موقوفہ جگہ کی دوبارہ ملکیت کا دعویٰ  کرے تو اس کا اعتبار نہیں ہوتا ۔

باقی  مذکورہ شخص نے موقوفہ مسجد کی ملکیت کا دعویٰ کس بنیاد پر  کیا ہے؟ اس کی کیا تفصیل ہے، اس کی صورت واضح کرکے اس کا  حتمی حکم معلوم کیا جاسکتا ہے۔

3: مسجد کی موقوفہ زمین پر بنات کا مدرسہ بنانا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) الكافر بسبب اعتقاد (السحر) لا توبة له (ولو امرأة) في الأصح.

(قوله والكافر بسبب اعتقاد السحر) في الفتح: السحر حرام بلا خلاف بين أهل العلم، واعتقاد إباحته كفر. وعن أصحابنا ومالك وأحمد يكفر الساحر بتعلمه وفعله سواء اعتقد الحرمة أو لا ويقتل وفيه حديث مرفوع «حد الساحر ضربة بالسيف» يعني القتل وعند الشافعي لا يقتل ولا يكفر إلا إذا اعتقد إباحته. وأما الكاهن، فقيل هو الساحر، وقيل هو العراف الذي يحدث ويتخرص، وقيل من له من الجن من يأتيه بالأخبار. وقال أصحابنا: إن اعتقد أن الشياطين يفعلون له ما يشاء كفر لا إن اعتقد أنه تخييل، وعند الشافعي إن اعتقد ما يوجب الكفر مثل التقرب إلى الكواكب وأنها تفعل ما يلتمسه كفر. وعند أحمد حكمه كالساحر في رواية يقتل، وفي رواية إن لم يتب، ويجب أن لا يعدل عن مذهب الشافعي في كفر الساحر والعراف وعدمه. وأما قتله فيجب ولا يستتاب إذا عرفت مزاولته لعمل السحر لسعيه بالفساد في الأرض لا بمجرد علمه إذا لم يكن في اعتقاده ما يوجب كفره.اهـ."

(كتاب الجهاد، باب المرتد،4 / 240، ط: سعيد)

فتاوی عالمگیری  میں ہے:

"وعندهما: حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد؛ فيلزم، ولا يباع ولا يوهب ولا يورث، كذا في الهداية. وفي العيون واليتيمة: إن الفتوى على قولهما، كذا في شرح أبي المكارم للنقاية." 

( کتاب الوقف،2 / 350، ط: رشیدیة)

وفیہ ایضاً:

"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناءً ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعاً لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه، والأصح أنه لايجوز، كذا في الغياثية."

 (كتاب الوقف، الباب الثانی فیما یجوز وقفه، 2/ 362، ط: رشیدية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709101940

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں