
میرا بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا تو میں نے غصہ میں کہا’’ جا تو میری طرف سے آزاد ہے‘‘،اب اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں؟اگر ہوئی تو ساتھ رہنے کی کیا صورت ہوگی؟جبکہ اس سے پہلے کبھی ہمارا طلاق کا معاملہ نہیں ہوا ہے؟
صورت مسئولہ میں لڑائی جھگڑے میں آپ کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ :’’ جا تو میری طرف سے آزاد ہے‘‘ان الفاظ سے آپ کی بیوی پر ایک طلاق ِ بائن واقع ہوگئی ہے،نکاح ختم ہوگیاہے، مطلقہ عورت پر عدت مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک گزارنا لازم ہے۔
البتہ اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو باہمی رضامندی سے نئے مہر اور شرعی گواہان کے روبرو دوبارہ نکاح (عدت کے دوران یا عدت کے بعد)کرکے میاں بیوی کی حیثیت سےرہ سکتےہیں ،دوبارہ نکاح کے بعد آئندہ کے لیے سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري.... فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي."
(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج: 1، ص: 299، ط: دار الفکر)
وفيه أيضا:
"(قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال..."
(باب الکنایات، 3/ 308، ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101964
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن