بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

"جا تجھے طلاق دی" سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟


سوال

ہم تمام بھائی ایک ساتھ رہتے ہیں،میری بیوی گزشتہ چھ سالوں سے تنگ دستی اور سخت حالات کی شکار تھی،تو اس نے تنگ ہو کر مجھ سے بار بار بٹوارہ کرنے کےمطالبات شروع کردیے،میں نے کہا کہ اس وقت چونکہ پراپرٹی کے ریٹ گرے ہوئے ہیں،صبر کرو ،میری بیوی نے کئی بار کہا کہ میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتا،تو میں نے بھی تنگ آکر  ایک مرتبہ کہا کہ "جا تجھے طلاق دی"اس کے بعد ہم دونوں خاموش اور شرمندہ  ہوئے،پھر طلاق کے بعد میں نے بیوی سے کہا کہ میں رجوع کرتاہوں۔

تو ان الفاظ سے میری بیوی کو کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟

کیا میرا رجوع معتبر ہے یا نہیں؟

وضاحت:یہ ایک ہی جملہ ہے،اور جا کے لفظ سے میرا طلاق کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ سائل نے  اپنی بیوی کو مذکورہ الفاظ کہے ہوں کہ"جا تجھے طلاق دی"اور جا کے لفظ سے سائل کا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،تو اس صورت میں سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے،جس کے بعد سائل نے اپنی بیوی کے ساتھ عدت میں ان الفاظ سے رجوع بھی کرلیا ہے کہ " میں رجوع کرتاہوں"تو ان الفاظ سے رجوع ہوگیا ہے،سائل اور اس کی بیوی کے درمیان بدستور نکاح برقرار ہے۔

تاہم رجوع کے بعد سائل صرف دو طلاقوں کا مالک ہے۔

جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے:

"لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة."

(کتاب الطلاق، الباب الثانی في إیقاع الطلاق، الفصل الخامس في الکنایات في الطلاق، ج: 1، ص: 374، ط: دار الفكر)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: اخرجي اذهبي قومي) لحاجة أو لأني طلقتك، قيد باقتصاره على اذهبي؛ لأنه لو قال: اذهبي فبيعي ثوبك لا يقع، وإن نوى، ولو قال: اذهبي إلى جهنم يقع إن نوى،كذا في الخلاصة، ولو قال: اذهبي فتزوجي، وقال: لم أنو الطلاق لم يقع شيء؛ لأن معناه تزوجي إن أمكنك وحل لك، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان."

(كتاب الطلاق، باب الكنايات في الطلاق، ج: 3، ص: 326، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق ... (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين  الخ."

(کتاب الطلاق، الباب الثانی فی ایقاع الطلاق، الفصل الخامس فی الکنایات فی الطلاق، ج: 1، ص: 375، ط: رشیدیة)

وفیه أیضا:

"و هو كأنت طالق و مطلقة و طلقتك و تقع واحدة رجعية و إن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئًا، كذا في الكنز".

(كتاب الطلاق، ج: 1، ص: 354، ط: مکتبة رشيدية)

 فتاوی  شامی میں ہے:

"باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح،(واحدة رجعية،وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر."

(کتاب الطلاق، باب الصریح، ج: 3، ص: 247، ط: ایچ ایم سعید)

 بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما ركن الرجعة فهو قول أو فعل يدل على الرجعة: أما القول فنحو أن يقول لها: راجعتك أو رددتك أو رجعتك أو أعدتك أو راجعت امرأتي أو راجعتها أو رددتها أو أعدتها، ونحو ذلك؛ لأن الرجعة رد، وإعادة إلى الحالة الأولى،وأما الفعل الدال على الرجعة فهو أن يجامعها أو يمس شيئا من أعضائها لشهوة أو ينظر إلى فرجها عن شهوة أو يوجد شيء من ذلك ههنا على ما بينا،، ووجه دلالة هذه الأفعال على الرجعة ما ذكرنا فيما تقدم، وهذا عندنا."

(کتاب الطلاق، الرجعة، فصل فی بیان رکن الرجعة، ج: 3، ص: 183، ط: دارالکتب العلمیة)

وفیه أیضا:

"وأما شرائط جواز الرجعة فمنها قيام العدة، فلا تصح الرجعة بعد انقضاء العدة؛ لأن الرجعة استدامة الملك، والملك يزول بعد انقضاء العدة، فلا تتصور الاستدامة إذ الاستدامة للقائم لصيانته عن الزوال لا للمزيل."

(کتاب الطلاق، الرجعة، فصل فی شرائط جوازالرجعة، ج: 3، ص: 183، ط: دارالکتب العلمیة)

وفیه أیضا:

"أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا."

 (کتاب الطلاق، باب شرعیة الرجعة، ج: 3، ص: 180، ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101699

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں