بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جعلی وصیت نامہ بنوا کر بھائیوں کا بہنوں کو ان کے حصے سے محروم کرنا


سوال

میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا، ان سے پہلے والدہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ ورثاء میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔میں نے اپنے والد کی زندگی میں، والدہ کے انتقال کے بعد، ان سے اپنا شرعی حصہ مانگا تھا۔ والد صاحب نے اس وقت کہا تھا کہ میں شریعت کے مطابق دوں گا، اس بات کے گواہ بھی موجود ہیں۔ لیکن بقضائے الٰہی والد صاحب کا انتقال ہوگیا، جس کا میرے دو بھائیوں نے فائدہ اٹھایا اور ایک جعلی وصیت نامہ بنوا کر اس پر فتویٰ لے لیا۔ انہوں نے یہ کہہ دیا کہ والد صاحب کی وصیت میں لکھا تھا کہ دو بہنوں کو پوری جائیداد میں سے صرف دس دس لاکھ روپے دیے جائیں گے، حالانکہ وہ پیسے والدہ کی زمین کے تھے جو ہمارے بنتے تھے اور ان کا والد کی جائیداد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

والدہ نے کہا تھا کہ بیٹیاں جب چاہیں آئیں اور جب چاہیں جائیں، میری موت کے بعد یہ گھر صرف بیٹیوں کا ہوگا، بیٹوں کا نہیں۔

1. بھائیوں نے جعلی وصیت نامہ بنوا کر فتویٰ لیا ہے اور ہمیں کوئی حصہ نہیں دیتے۔ ہمارا شرعی حصہ کتنا بنتا ہے؟
2. جب تک بھائی ہمیں حصہ نہ دیں، تو کیا میں ان سے کرایہ لے سکتی ہوں؟
3. والدہ کے انتقال کے بعد، ان کا ڈیڑھ کلو سونا تھا جو والد صاحب نے اپنے بیٹوں کو دے دیا، ہمیں نہیں دیا۔ تو کیا والد صاحب کو ایسا کرنے کا اختیار تھا کہ والدہ کی وفات کے بعد والدہ کا سونا صرف بیٹوں کو دیں؟

جواب

واضح ورثاء میں سے جب کوئی وارث اپنے حصۂ میراث کا مطالبہ کرے تو اس کے مطالبے پر میراث تقسیم کرنا اور اسے حصہ دینا واجب ہوجاتا ہے، یعنی بغیرعذر کے تاخیر کرنا گناہ کا باعث ہوتا ہےاور حدیث کے بموجب ایسا شخص ظالم شمار ہوتا ہے، جیساکہ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مال دار (استطاعت والے) کا (ادائیگی میں) ٹال مٹول سے کام لینا ظلم ہے‘‘۔

کسی وارث کو اس کے حصۂ میراث سے محروم کرنے اور کسی کا حق دبالینے پر احادیث مبارکہ میں بڑی وعیدیں آئی ہیں:

’’حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی‘‘،  ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے: ’’حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا(یعنی اسے جنت سے محروم کردے گا)۔‘‘

اور کسی بھی زیادتی کی تلافی دنیا میں ہی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی کی آبروريزی کی ہو یا کوئی اور ظلم کیا ہو اسے چاہیے کہ آج ہی معاف کرالے اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس دن نہ دینار قبول کیے جائیں گے نہ درہم، اگر اس (ظالم) کے پاس کوئی عمل صالح ہوگا وہ اس سے لے کر صاحب حق (مظلوم) کو (ظلم کے بقدر) دے دیا جائے گا، اور اگر اس کے پاس کوئی عمل صالح نہیں ہوگا تو مظلوم کے گناہ اس (ظالم) پر لاد دیے جائیں گے۔‘‘ 

نيز ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مفلس کس کو خیال کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا ہم مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس درہم اور سامان نہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے کہ قیامت کے دن نماز، روزہ، زکات لے کر آئے گا، مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی اور دوسرے پر تہمت دھری ہوگی اور کسی کا مال لیا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کی مار پٹائی کی ہوگی تو اس کی نیکیاں اس مظلوم کو دے دی جائیں گی اور کچھ دوسرے کو، پھر اگر اس کے ذمہ ادائیگی حقوق سے پہلے نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کی غلطیاں اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘

لہذا شرعا ایسی وصیت غیر معتبر ہے؛اس لیے بھائیوں کو چاہیے کہ آخرت کی جواب دہی کو سامنے رکھتے ہوئے بہنوں کو ان کا پورا شرعی حق ادا کریں، ورنہ آخرت میں ادائیگی کرنی ہوگی اور مندرجہ بالا احادیث مبارکہ میں آخرت میں ادائیگی کی جو صورت بیان کی گئی ہے اس طرح ادائیگی کے بعد کسی کا پکڑ سے بچ جانا مشکل دکھائی دیتا ہے، دنیا کی چند روزہ زندگی کی خاطر آخرت کی دائمی زندگی کو داؤ پر لگانا عقل مندی نہیں ہے۔ 

ترکہ کی تقسیم کاشرعی طریقہ یہ ہےکہ سب سے پہلے مرحوم کےحقوق متقدمہ یعنی کفن دفن کےاخراجات اگرہوں  تووہ نکال کرمرحوم کے ذمہ اگرکوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو  اسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعدمرحوم کے ترکہ کو دس حصوں میں تقسیم کرکے دو، دو حصے ہر ایک بیٹے کو اور ایک، ایک حصہ مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

مرحوم والدین: 10

بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
222211

یعنی فیصد کے حساب سے ہر ایک بیٹے کو بیس فیصد اور ہر ایک بیٹی کو دس فیصد ملیں گے۔

2.صورتِ مسئولہ میں اگر پہلے سے کوئی کرایہ طے نہیں کیا گیا تھا، تو ایسی صورت میں ان بھائیوں سے  جو اب تک اس مکان میں رہائش پذیر رہے ہیں — بہنوں کو گزشتہ عرصہ  کا کرایہ طلب کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔البتہ  آئندہ کے لیے اگر بہنوں کے حصے کے عوض کرایہ طے کر لیا جائے، تو اس کے بعد ان کا کرایہ کا مطالبہ شرعاً درست ہوگا۔

3.مرحومہ کے انتقال کے بعد مرحومہ کے ترکہ میں تمام ورثاء کا حق ہے جس میں ہر ایک اپنے حصہ کے بقدر شریک ہے۔لہذا بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی بہنوں کو والد اور والدہ دونوں کی جائیداد میں ان کا شرعی حصہ ان کے حوالہ کردے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا لوارثه وقاتله مباشرة) (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته."

(کتاب الوصایا، ج: ص: 655/656، ط: سعید)

مجلۃ الاحكام العدليۃ میں ہے:

"(المادة 1075)  أما إذا سكن أحد صاحبي الدار المشتركة فيها بلا إذن الآخر مدة فيكون قد سكن في ملكه فلذلك لا يلزمه إعطاء أجرة لأجل حصة شريكه واذا احترقت الدار قضاء فلا يلزمه ضمانها."

(الكتاب العاشر: الشركات، الباب الأول في بيان شركة الملك، ‌‌الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، ص: 207، ط: نور محمد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"لو ‌واحد ‌من ‌الشريكين ‌سكن … في الدار مدة مضت من الزمن فليس للشريك أن يطالبه … بأجرة السكنى."

(‌‌كتاب الوقف، ج: 4، ص: 337، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100767

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں