
مفتی صاحب آج کل بازار میں ایپل آئی فون (JV) کی عام طور پر خرید و فروخت ہوتی ہے، اس کے حوالہ سے پوچھنا تھا کہ جے وی فون جو ہوتا ہے اس کی سم بند ہوتی ہے کمپنی کی طرف سے، اس کی وجہ یہ ہوتی کہ بیرون ممالک میں موبائل کو قسطوں پر بیچا جاتا ہے اور اس کی انشورنس کروائی جاتی ہے، تو لوگ یہ کرتے ہیں کہ قسطیں مکمل نہیں بھرتے اور بیچ دیتے ہیں، اور کمپنی کو بولتے ہیں کہ موبائل چوری ہوگیا، اور تمام قسطیں ادا نہیں کرتے، تو اس میں عموماً دو صورتیں ہوتی ہیں پھر یا تو انشورنس کمپنی انہی کو پیسے دے دیتی ہے، یا قسطوں پر بیچنے والی کمپنی کو دے دیتی ہے، اور جس نے بیچا ہوتا وہ بیع کے پیسے اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔
دوسرا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایپل کمپنی اپنا موبائل اپنے کام کرنے والے عملہ کو دیتی ہے تو وہ لوگ بھی چوری ہونے یا ٹوٹنے کا بہانہ کر کے وہ موبائل آگے بیچ دیتے ہیں، اور کمپنی سے نیا موبائل لے لیتے ہیں۔
ایک اور طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ موبائل کو منتقل کرتے وقت کچھ فون نکال لیتے ہیں، اور یہی بات کرتے ہیں کہ چوری ہوگیا یا راستے میں گر گیا۔ تو ان تمام صورتوں میں وہ بیچ دیتے ہیں، پھر جو لوگ ان لوگوں سے خریدتے ہیں وہ آگے بڑے بڑے ڈیلرز کو بیچ دیتے ہیں، اور وہ لوگ دوسرے ملک میں لے جا کر بیچ دیتے ہیں، اور اسی راستے سے موبائل پاکستان بھی آتے ہیں۔
اور رہی بات کمپنی کی وہ اس کی سم بند کر دیتی ہے کیوں کہ اس کے ذریعہ رابطہ کرنا موبائل کے اوّلین مقاصد میں سے ہے۔ تو سوال یہ ہے ایسی صورت میں ایسے موبائل فون کو خریدنا یا بیچنا یعنی کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟
بصورتِ مسئولہ جن صورتوں میں موبائل کا چوری شدہ ہونا یقین یا ظنِ غالب کے ساتھ معلوم ہو، ان صورتوں میں جے وی موبائل کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے۔ البتہ جن صورتوں میں موبائل کو باقاعدہ قسطوں پر لے کر آگے بیچا جاتا ہے ان صورتوں میں جے وی موبائل خریدنے کی گنجائش ہے۔ تاہم اگر یہ فرق معلوم ہونا مشکل ہو تو پھر جے وی موبائل خریدنے سے احتیاط کرنی چاہیے۔
المصنف لابن أبي شيبة میں ہے:
"حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن قال: إذا دخلت سوق (المسلمين) (فاشتر) ما وجدت ما لم تعلم أنه خيانة أو سرقة."
(كتاب البيوع، من كره شراء السرقة، ١٢/ ٢٤٦، ط: دار كنوز)
وفيه أيضا:
"حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مصعب بن محمد عن رجل من أهل المدينة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "من اشترى سرقة وهو يعلم أنها سرقة فقد شرك في عارها واثمها."
(كتاب البيوع، من كره شراء السرقة، ١٢/ ٢٤٦، ط: دار كنوز)
الفتاوى الهندية میں ہے:
"رجل اشترى من التاجر شيئا هل يلزمه السؤال أنه حلال أم حرام قالوا ينظر إن كان في بلد وزمان كان الغالب فيه هو الحلال في أسواقهم ليس على المشتري أن يسأل أنه حلال أم حرام ويبنى الحكم على الظاهر، وإن كان الغالب هو الحرام أو كان البائع رجلا يبيع الحلال والحرام يحتاط ويسأل أنه حلال أم حرام."
(كتاب البيوع، الباب العشرون، ٣/ ٢١٠، ط: رشيدية)
وفيه أيضا:
"قال رضي الله عنه لما سألته أن ما يشترى من السوق ويعلم قطعا أنهم يبايعون الأتراك ومن غالب مالهم الحرام ويجري بينهم الربا والعقود الفاسدة كيف يكون فهو على ثلاثة أوجه فكل عين قائمة يغلب على ظنه أنهم أخذوها من الغير بالظلم وباعوها في السوق فإنه لا ينبغي أن يشتري ذلك وإن تداولتها الأيدي والثاني إن علم أن المال الحرام بعينه قائم إلا أنه اختلط بالغير بحيث لا يمكن التمييز عنه فإن على أصل أبي حنيفة رحمه الله تعالى بالخلط يدخل في ملكه إلا أنه لا ينبغي أن يشتري منه حتى يرضى الخصم بدفع العوض فإن اشتراه يدخل في ملكه مع الكراهة والثالث إذا علم أنه لم تبق العين المغصوبة أو المأخوذ بالربا وغيره وإنما باعها لغيره فإن الذي يعلم أنه لم تبق تلك العين جاز له أن يشتري منهم هذا كله من حيث الفتوى أما إذا كان أمكنه أن لا يشتري منهم شيئا كان أولى أن لا يشتري."
(كتاب الكراهية، الباب الخامس والعشرون، ٥/ ٣٦٤، ط: رشيدية)
فقط والله تعالى أعلم
فتویٰ نمبر : 144709101987
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن