بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1448ھ 15 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

جگہ کی تنگی کی بناء پر امام اور کچھ مقتدیوں کا مسجد سے باہر کھڑا ہونا


سوال

ایک تبلیغی مرکز کی مسجد ہے ،جہاں عنقریب اجتماع منعقد ہونے والا ہے، اور نمازی احباب کی کثرت متوقع ہے۔ اس لیے پیشگی طور پر صف بندی اور نماز کی ترتیب کے حوالے سے شرعی رہنمائی درکار ہے۔صورتِ حال یہ ہے کہ مسجد کے قبلہ کی جانب دو یا تین صفوں کے برابر ایک جگہ مسجد کی توسیع کے لیے خریدی جا چکی ہے، لیکن ابھی تک اسے باقاعدہ طور پر مسجد میں شامل (ملحق) نہیں کیا گیا، بلکہ وہ بدستور مسجد کی حدود سے خارج شمار ہوتی ہے۔

عام حالات میں نمازیں حسبِ معمول مسجد کے اندر ہی ادا کی جاتی ہیں، تاہم اجتماعات کے موقع پر نمازیوں کی کثرت کے باعث مسجد کی موجودہ جگہ ناکافی ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں عارضی طور پر یہ انتظام تجویز کیا جا رہا ہے کہ امام صاحب مسجد کی عمارت سے باہر، اسی خریدی گئی متصل جگہ میں پہلی صف کے آگے کھڑے ہوں، اور ان کے پیچھے دو یا تین صفیں مزید اسی جگہ پر قائم کی جائیں، جبکہ باقی نمازی مسجد کے اندر بھی صفیں بنائیں اور کچھ باہر بھی کھڑے ہوں۔اس ترتیب میں مسجد کے اندر موجود صفوں اور باہر قائم صفوں کے درمیان مسجد کی دیوار حائل ہوگی، جس کے باعث اندر اور باہر کے نمازیوں کے درمیان ظاہری اتصال باقی نہیں رہے گا۔

1۔ کیا مذکورہ صورت میں تمام نمازیوں کی نماز درست ہوگی؟

2۔ جب مقتدیوں کی بعض صفیں مسجد کے اندر ہوں اور بعض باہر، اور ان کے درمیان مسجد کی دیوار حائل ہو، تو ایسی حالت میں اقتدا کا کیا حکم ہوگا؟

3۔ کیا ایسی نماز مسجد کی نماز شمار ہوگی، جبکہ امام مسجد کی عمارت سے باہر کھڑا ہو اور وہ جگہ ابھی تک مسجد میں شامل نہ کی گئی ہو؟

4۔ اس صورتِ حال میں شرعاً زیادہ مناسب، بہتر اور محتاط طریقۂ کار کیا اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ اجتماع کے موقع پر کوئی شرعی قباحت باقی نہ رہے؟

جواب

1۔واضح رہے کہ اقتداء کی صحت کے لیے اتحادِ مکان (امام اور مقتدی کا ایک ہی جگہ ہونا) شرط ہے ۔ اگر امام مسجد کی عمارت سے باہر (اس نئی خریدی گئی جگہ میں) کھڑا ہو اور مقتدی مسجد کے اندر ہوں، تو   مقتدیوں کو اگر امام کے انتقالات (ایک رکن سے دوسرے رکن میں جانے) کا علم ہو (خواہ وہ آواز سن کر ہو یا دیکھ کر) اور صفوں کا اتصال (جڑا ہونا) ہو تو پھر ایسی صورت میں اقتداء درست ہوجائے گی۔

اگر امام باہر کھڑا ہو اور اس کے پیچھے کچھ صفیں باہر ہوں، اور پھر مسجد کی دیوار کے بعد اندر صفیں ہوں، تو اگر  دروازوں کے ذریعے باہر اور اندر کی صفیں آپس میں جڑی ہوئی ہوں (یعنی درمیان میں دو صفوں سے زیادہ کا فاصلہ نہ ہوں بلکہ  صفوں کا تسلسل برقرار ہو)، تو اندر والوں کی  اقتداء  درست ہوگی۔

2۔ اگر امام کے ساتھ بعض مقتدی مسجد سے باہر ہوں اور بعض اندر ہویا اس کے برعکس  بعض امام کے ساتھ اندر  ہوں اور بعض مسجد سے باہر ہوں اور بیچ میں  ایسی دیوار وغیرہ حائل ہو جو اتصال سے مانع ہو،  جس کی وجہ  سے امام کے رکن کے انتقالات کا پتہ نہ چلتا ہو، تو  جو مقتدی امام کے ساتھ ہیں ان کی نماز درست ہو جائے گی اور  جو حائل کے دوسری طرف ہیں ان کی اقتدا درست نہ ہوگی ۔

2۔البتہ امام اور چند صفیں مسجد شرعی کی حدود سے باہر ہوں گی تو شرعی مسجد میں نماز کی ادائیگی کا ثواب ان افراد کو حاصل نہ ہوگا۔

4۔البتہ اس میں محتاط اور بہتر طریقہ یہی ہے کہ امام  مسجد کے محراب میں اپنے مقام پر کھڑا ہو کر نماز پڑھائے ، اور اگر مسجد کے اندر گنجائش کم ہو تو مسجد کے باہر پیچھے کی جانب مزید صفیں بچھادی جائیں۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء، واتحاد مكانهما وصلاتهما.

(قوله: واتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلاف المكان؛ فلو كانا على دابة واحدة صح لاتحاده، كما في الإمداد، وسيأتي". 

(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج: 1،  ص: 549، 550،  ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(منها) طريق عام يمر فيه العجلة والأوقار، هكذا في شرح الطحاوي. إذا كان بين الإمام وبين المقتدي طريق إن كان ضيقًا لايمر فيه العجلة والأوقار لايمنع وإن كان واسعًا يمر فيه العجلة والأوقار يمنع،كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة. هذا إذا لم تكن الصفوف متصلةً على الطريق، أما إذا اتصلت الصفوف لايمنع الاقتداء ... والمانع من الاقتداء في الفلوات قدر ما يسع فيه صفين وفي مصلى العيد الفاصل لايمنع الاقتداء وإن كان يسع فيه الصفين أو أكثر وفي المتخذ لصلاة الجنازة اختلاف المشايخ وفي النوازل جعله كالمسجد. كذا في الخلاصة.

(ومنها نهر عظيم) لايمكن العبور عنه إلا بالعلاج كالقنطرة وغيرها، هكذا في شرح الطحاوي. فإن كان بينه وبين الإمام نهر كبير يجري فيه السفن والزوارق يمنع الاقتداء وإن كان صغيرا لاتجري فيه لايمنع الاقتداء هو المختار، هكذا في الخلاصة. وهو الصحيح. ... وإن كان على النهر جسر وعليه صفوف متصلة لايمنع صحة الاقتداء لمن كان خلف النهر وللثلاثة حكم الصف بالإجماع وليس للواحد حكم الصف بالإجماع، وفي المثنى اختلاف على ما مر في الطريق إن كان بينهما بركة أو حوض إن كان بحال لو وقعت النجاسة في جانب يتنجس الجانب الآخر لايمنع الاقتداء وإن كان لايتنجس يمنع الاقتداء، هكذا في المحيط".

 (کتاب الصلاۃ،  الباب الخامس فی بیان مقام الامام والماموم، ج: 1، ص:  87،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101100

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں