
1-اگر اعتکاف کسی مدرسے میں کر رہے ہوں اور وہاں مسجد اور سونے کیلیے دوسری جگہ ہو تو ایسے میں عبادت کہاں کرنی چاہیے سونے والے کمرے میں یا مسجد ہال میں ؟ 2-نیز اگر مسجد میں قرآن کی تفسیر یا دینی علوم کی کوئی کلاس ہو رہی ہو اور وہ مسجد ہال سے متصل دوسرے مسجد ہال میں ہو یا تربیتی حوالے سے کوئی پروگرام ہو تو ایسے میں اس پروگرام میں شرکت کرنا جائز ہے ؟ 3-اگر ایک شخص دوران اعتکاف مسجد سے باہر کی سیڑھیوں کو مسجد کی حدود سمجھ کر کھڑا ہو کر کھانا کھا لے اس نیت سے کہ مسجد ہال میں کھانا گرجانے سے بے ادبی ہوگی یا گندگی پھیلے گی تو کیا یہ جائز ہے جبکہ وہ اس کو بھی مسجد کی حدود تصور کر رہا تھا ؟
1-اعتکاف کے صحیح ہونے کے لئے ایسی وقف مسجد ہونا ضروری ہے جس میں پانچ وقت کی نماز جماعت کے ساتھ ہوتی ہو ،اس لئے مدرسہ میں اعتکاف کرنا جائز نہیں ہے۔
2- اگر مسجد میں کوئی دینی مجلس، درسِ حدیث یا درسِ فقہ ہو رہا ہو، اور وہ مسجد کے اندر ہی ہو (باہر نہ ہو)، تو اس مجلس میں شرکت کی مکمل اجازت ہے۔ اعتکاف کے آداب میں شامل ہے کہ معتکف عبادت، دینی علوم، فقہی اور حدیثی مجالس میں شرکت کرے۔
3- اگر کوئی شخص بلا ضرورت مسجد سے ایک لمحے کے لیے بھی باہر چلا جائے تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے، چاہے وہ نیت کے ساتھ مسجد کی حدود سے نکلے یا بھول کر، یا کسی اور نے اسے باہر نکالا ہو، دونوں صورتوں میں اس کا اعتکاف فاسد ہوجائےگا۔لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل کسی شرعی اور طبعی عذر کے بغیر مسجد کی حدودسے باہر چلا گیا ہے تو اس سے اس کا اعتکاف فاسد ہوگیا ہے،فساد کا تدارک یہ ہے کہ اس پر ایک دن اور ایک رات کی قضاروزے کے ساتھ لازم ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(وأما آدابه)فأن لا يتكلم إلا بخير، وأن يلازم بالاعتكاف عشرا من رمضان، وأن يختار أفضل المساجد كالمسجد الحرام والمسجد الجامع كذا في السراج الوهاج. ويلازم التلاوة والحديث والعلم وتدريسه وسير النبي صلى الله عليه وسلم والأنبياء عليهم السلام، وأخبار الصالحين وكتابة أمور الدين كذا في فتح القدير. ولا بأس أن يتحدث بما لا إثم فيه كذا في شرح الطحاوي......وأما الأكل والشرب والنوم فيكون في معتكفه؛ لأنه يمكنه قضاء هذه الحاجة في المسجد فلا ضرورة في الخروج كذا في الهداية...........(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ونهارا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدا أو ناسيا هكذا في فتاوى قاضي خان."
(کتاب الصوم،الباب السابع فی الاعتکاف،ج:1،ص:211/212،ط:دار الفكر بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144609102209
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن