بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

استطاعت کے باوجوع حج نہ کرنے پر وعید


سوال

حج کب اور کس پر فرض ہوتا ہے اور نہ کرنے پر وعید کیا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ    حج فرض ہونے  کے لیے چند شرائط ہیں، یعنی وہ شرائط جن کی وجہ سے حج واجب ہوجاتا ہے مندرجہ ذیل ہیں:

 مسلمان ہونا، عاقل ہونا ،بالغ ہونا، آزاد ہونا، حج کا وقت ہونا، سفر کےخرچ پر قادر ہونا(یعنی دوران سفر اور واپسی لوٹنے تک اپنے خرچ کے ساتھ ساتھ اپنے  اہل و عیال کے نان نفقہ کی ادائیگی پر بھی  قادر ہو)  سواری پر قادر ہونا۔

 جس شخص میں مذکورہ شرائط موجود ہوں اس پر حج  بیت اللہ فرض ہے، اس کو بغیر عذر نہ کرنے والا آدمی کبیرہ گناہ میں  مبتلی ہے، اور توبہ اس پر واجب ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حج نہ کرنے والے کے متعلق فرمایا:  جو شخص صاحب حیثیت ہوتے ہوئےجج فرض ادا نہ کرےاوراس کا کوئی عذربھی نہ ہواس کی مرضی چاہے یہودی ہوکرمرےچاہےنصرانی ہوکر ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:"میں نے ارادہ کیا تھا کہ کچھ آدمیوں کو شہروں کی طرف بھیجوں تاکہ وہ دیکھیں کہ جس کے پاس حج کرنے کی استطاعت ہو اور پھر بھی وہ حج نہ کرے، تو ایسے لوگوں پر جزیہ لگا دیا جائے، اور وہ (حقیقی) مسلمان نہیں ہیں۔"

البحر الرائق میں ہے: 

"‌وشرائطه ‌ثلاثة: شرائط وجوب، وشرائط وجوب أداء، وشرائط صحة، فالأولى ثمانية على الأصح: الإسلام، والعقل، والبلوغ، والحرية، والوقت، والقدرة على الزاد، والقدرة على الراحلة، والعلم بكون الحج فرضا، وقد ذكر المصنف منها ستة وترك الأول والأخير، والعذر له كغيره أنهما شرطان لكل عبادة وقد يقال: كذلك العقل والبلوغ والعلم المذكور يثبت لمن في دار الإسلام بمجرد الوجود فيها سواء علم بالفرضية أو لم يعلم، ولا فرق في ذلك بين أن يكون نشأ على الإسلام فيها أو لا، فيكون ذلك علما حكميا، ولمن في دار الحرب بإخبار رجلين أو رجل وامرأتين، ولو مستورين أو واحد عدل وعندهما لا تشترط العدالة والبلوغ والحرية فيه وفي نظائره الخمسة كما عرف أصولا وفروعا."

(کتاب الحج، ج: 2، ص: 538، ط: دار الکتب العلمیة)

 الكبائر  للذهبي میں ہے:

"الكبيرة السابعة في ترك الحج مع القدرة عليه:قال الله تعالى {ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا} وقال النبي صلى الله عليه وسلم من ملك زادا وراحلة تبلغه حج بيت الله الحرام ولم يحج فلا عليه أن يموت يهوديا أو نصرانيا وذلك لأن الله تعالى يقول {ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا} وقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه لقد هممت أن أبعث رجالا إلى هذه الأمصار فينظروا كل من له جدة ولم يحج فليضربوا عليهم الجزية وما هم بمسلمين."

(الكبيرة السابعة في ترك الحج مع القدرة عليه، ج: 1، ص: 38، ط:  دار الندوة الجديدة - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101814

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں