
میری ملکیت میں تقریبابیس لاکھ کا سونا ہے اور کیش بھی ہے، تقریبا چھ لاکھ کا۔ سونا بیچ کر حج کے اخراجات اٹھا سکتی ہوں۔
ایسی صورت میں کیا مجھ پر حج فرض ہے؟ جب کہ شوہر صاحب استطاعت نہیں اور میں بھائی کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔ شوہر منع کر رہے ہیں۔ شوہر کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ حج کے لیے جانا اور حج کے اخراجات کے لیے سونا بیچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس صورت میں، شوہر کی ناراضگی کے خیال سے اگر میں حج کے لیے نہیں جاتی تو کیا میں گناہ گار ہوں؟ برائے مہربانی اس بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ صاحب استطاعت ہے اور سائلہ پر حج کی ادائیگی فرض ہے ،سائلہ کے شوہر کو چاہیے کہ سائلہ کو فرض حج کی ادائیگی سے نہ روکے ، تاکہ سائلہ اپنا فریضہ اپنی زندگی میں ادا کرسکیں ، لہذا سائلہ شرعاً فرض حج کی ادائیگی کے لیے اپنے بھائی کے ساتھ سفر کرسکتی ہیں ، اس صورت میں اگر شوہر ناراض ہوتے ہیں تو سائلہ گناہ گار نہ ہوگی۔
سائلہ کے شوہر صاحب استطاعت نہیں تو ان پر شرعاً حج فرض نہیں ہے ، وہ سائلہ کا سونا سائلہ کی اجازت کے بغیر شرعاً فروخت نہیں کرسکتے ۔
سائلہ کو بھی چاہیے شوہر کو یہ شرعی مسئلہ حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھائے تا کہ وہ بخوشی اجازت دے دے،نہ بھی دے تب بھی فرض کی ادائیگی کے لئے محرم / بھائی وغیرہ کے ساتھ جاسکتی ہے۔
مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے:
"(وتحج) المرأة (معه) أي المحرم (حجة الإسلام) أي الحج الفرض (بغير إذن زوجها) وقت خروج أهل بلدها أو قبله بيوم أو يومين وليس له منعها عن حجة الإسلام وله منعها عن كل حج سواها."
(كتاب الحج، ج: 1، ص: 263، ط: دار إحياء التراث العربي)
فتاوٰی شامی میں ہے:
"وليس لزوجها منعها عن حجة الإسلام. قال ابن عابدين: (قوله وليس لزوجها منعها) أي إذا كان معها محرم وإلا فله منعها كما يمنعها عن غير حجة الإسلام."
(كتاب الحج، ج: 2، ص: 465، ط: ایچ ایم سعيد)
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
"(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم، والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصة."
(كتاب الحج، الباب الأول في تفسير الحج، وفرضيته ووقته وشرائطه، ج: 1، ص: 218،219، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101162
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن