
کیا استنجا کرتے ہوئے ٹشو کا استعمال کرنا ضروری ہے؟میں پیشاب کرنے کے بعد کھڑا ہو کے کھانس لیتا ہوں پھر بیٹھ کے پیشاب کی نالی کو پاخانے کے سوراخ کے شروع سے لے کے اخیر تک آہستہ آہستہ مسل کے قطرہ نکال دیتا ہوں۔ کیا اس طرح کرنے کے بعد ٹشو کا استعمال پھر بھی کرنا ہوگا؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ٹشو کا استعمال لازمی ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ٹشو کو استعمال کے بعد اگر فلش میں پھینکا جائے تو فلش کے بند ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے ٹشو کے استعمال کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں وضاحت مطلوب ہے۔
بصورت مسئولہ استنجاء میں ٹیشو کا استعمال بہتر اور افضل ضرور ہے لیکن لازمی و ضروری نہیں ہے، لہذا آدمی پیشاب سے اس طرح فارغ ہوچکا ہو کہ مزید قطرے کے آنے کاامکان نہ ہو تو عضوخاص پر محض پانی بہادینا جس سے نجاست کا ازالہ ہوجائے کافی ہوتا ہے، ٹیشو کے استعمال کے بغیر بھی طہارت حاصل ہوجائے گی۔
تاہم استنجاء میں اگر قطرات نکالنا مقصود ہو تو کچھ چل کر یا کھانسی وغیرہ کر کے اطمینان حاصل کیا جاسکتا ہے، اِس کے لیے ہاتھ سےعضو خاص کو مسلنا یا رگڑنا ضروری نہیں ہے۔
مراقی الفلاح میں ہے:
"(الإستنجاء) هو قلع النجاسة بنحو الماء ومثل القلع التقليل بنحو الحجر."
(فصل في الإستنجاء، ص:23، ط:المكتبة العصرية)
غنیۃ المتملی فی شرح منیۃ المصلی میں ہے:
"( وان لا يستنجى بيده اليمنى) لقوله عليه السلام اذا شرب احدكم فلا يتنفس في الإناء واذا أتى الخلاء فلايمس ذكره بييمنه ولا يتسمح بيمينه روياه في الصحيحين من حديث أبي قتادة ."
(كتاب الطهارة، ص:39، ط:درسعادت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"والإستنجاء بالماء أفضل إن أمكنه ذلك من غير كشف العورة وإن احتاج إلى كشف العورة يستنجي بالحجر و لايستنجي بالماء، كذا في فتاوى قاضي خان. و الأفضل أن يجمع بينهما، كذا في التبيين. قيل هو سنة في زماننا وقيل على الإطلاق وهو الصحيح وعليه الفتوى."
(کتاب الطهارة ، الباب السابع، فصل فی الإستنجاء ، ج :1،ص:48،دار الفکر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102315
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن