بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

استعمال کی گاڑی پر زکات کا حکم


سوال

استعمال کی گاڑی پر زکات کا حکم کیا ہے؟

جواب

جو گاڑی استعمال کی نیت سے خریدی گئی ہو، اس پر زکات واجب نہیں ہوتی، البتہ مذکورہ  گاڑی  اگر سائل  فروخت کرے گا، تو ان سے حاصل نقدی اگر محفوظ رہتی ہے، تو  زکات کا سال  مکمل ہونے پر زکات کا حساب کرتے ہوئے نقدی کو بھی اموا ل زکات میں شامل کرکے  زکات ادا کرنا واجب ہوگا۔

فتاوى هنديہ  میں ہے:

"(وأما شروط وجوبها فمنها) ... (ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة."

( كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها، 1 / 172، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100743

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں