
ایک مدرس کا تقرر شعبان میں ایک مدرسے میں ہوا، اور اس سے پہلے مدرسے والوں نے شعبان اور رمضان کی تنخواہ بھی ادا کر دی۔
1. کیا یہ مدرس پہلے مدرسے سے شعبان اور رمضان کی تنخواہ لے سکتا ہے؟
2. اگر مدرسے والے کسی استاد کو شعبان میں رخصت دیں، تو کیا استاد کو شعبان اور رمضان کی تنخواہ لینے کا حق ہے؟
3. اگر استاد خود استعفیٰ دے دے، تو اس صورت میں حکم کیا ہے؟
واضح رہے کہ اگر مذکورہ مدرسے میں اس بارے میں کوئی مقررہ ضابطہ موجود ہو تو اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ یعنی:
اگر شعبان و رمضان میں استعفیٰ دینے کے باوجود تنخواہ کے حق کا ضابطہ موجود ہو، تو مستعفی مدرس اس تنخواہ کا مستحق ہوگا۔
اگر ضابطہ تنخواہ نہ دینے کا ہو، تو مستعفی مدرس کو تنخواہ کا حق نہیں ہوگا۔
اور اگر مدرسے میں کوئی ضابطہ موجود نہیں ہے، تو اس صورت میں مدارس کے عرف و تعامل کو دیکھا جائے گا اور اس کے مطابق عمل ہوگا۔
ہمارے اکابرین، جیسے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا عنایت الہیؒ، مولانا حافظ محمد احمدؒ، مفتی عبدالرحیم لاجپوریؒ، حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ، مولانا عبد الحق حقانیؒ، اور مفتی محمد اسحاقؒ کے مطابق:
مدرس سالانہ ایام تعطیلات کی تنخواہ کا مستحق اسی صورت میں ہوگا جب وہ تعطیلات میں مدرسے سے استعفیٰ نہ دے، بلکہ اپنے ادارے سے وابستہ رہے اور شوال میں دوبارہ کام شروع کرے۔
ہمارے دارالافتاء کے اکابرین، جیسے مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ، سابق رئیس الجامعہ حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب رحمہ اللہ اور سابق رئیس دار الافتاء مفتی عبد السلام صاحب چاٹگامی رحمہ اللہ، کا بھی یہی مؤقف رہا ہے اور دارالافتاء کا فتویٰ بھی یہی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس دینیہ میں شعبان و رمضان کی تعطیلات عرفًا ایام عمل کے تابع سمجھی جاتی ہیں، تاکہ مدرس اس دوران استراحت کرے اور اپنی نجی ضروریات پوری کرکے ایام عمل میں بہتر طریقے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکے۔ لہٰذا:
مدرس صرف اسی صورت میں تعطیلات کی تنخواہ کا حق دار ہوگا جب وہ تعطیلات کے دوران کسی دوسرے ادارہ سے وابستہ نہ ہوجائے اور استعفیٰ نہ دے دے ، بلکہ اپنے مدرسے سے ہی وابستہ رہے۔
اگر تعطیلات کے دوران مدرس استعفیٰ دے دیتا ہے،یا کسی بھی وجہ سے مدرسہ سے وابستگی ختم ہوجائے ، تو وہ ان ایام کی تنخواہ کا مستحق نہیں ہوگا۔
الذخیرۃ البرہانیہ میں ہے:
"وفي الإجارة التي تنعقد علي العمل ويبقي له أثر في العين، فإنه لا يجب عليه إيفاء الأجر إلا بعد إيفاء العمل كله، وإن كان حصة ما استوفي معلومة...والأصل: أن إيفاء أحد البدلين في العقد إذا كان لا يجب بعد استيفاء البدل اللآخر فإنه لا يجب إيفاء شيء منه إلا بعد استيفاء البدل الآخر كما في باب البيع..."
(كتاب الإجارات، الفصل الثاني: في بيان أنه متي يستحق الأجر، ج: 11، ص: 442، ط: دار الكتب العلمية)
وفيه أيضًا:
"والإجارة تنتهي بدخول أول جزء من الغاية."
(كتاب الإجارات، الفصل الثالث: الأوقات التي يقع عليها عقد الإجارة، ج: 11، ص: 457، ط: دار الكتب العلمية)
القواعد الفقہیۃ وتطبيقاتہا فی المذاہب الاربعۃ میں ہے:
"إنما تُعتبر العادة إذا اطردت أو غَلَبت."
(الباب الأول القواعد الفقھية الأساسية، القاعدة (44)، 5 -إنما تُعتبر العادة إذا اطردت أو غَلَبت ، شرح قاعدةإنما تُعتبر العادة إذا اطردت أو غَلَبت، ص: 323، ط: دار الفکر)
الاشباه والنظائرمیں ہے:
"العادة محكمة...المبحث الثاني: إنما ذا اطّردت أو غلبت...ومنها البطالة في المدارس، كأيام الأعياد ويوم عاشوراء، وشهر رمضان في درس الفقه لم أرها صريحة في كلامهم. والمسألة على وجهين: فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء، وإلا فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي، وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له من بيت المال في يوم بطالته، فقال في المحيط: إنه يأخذ في يوم البطالة؛ لأنه يستريح لليوم الثاني. وقيل: لا يأخذ (انتهى). وفي المنية: القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، واختاره في منظومة ابن وهبان، وقال: إنه الأظهر فينبغي أن يكون كذلك في المدارس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة يكون للمطالعة والتحرير عند ذي الهمة..."
(الفن الأول قول في القواعد الكلية، القاعدة السادسة، ج: 1، ص: 297-302، ط: دار الكتب العلمية)
إمداد الفتاویٰ میں ہے:
"حکم تنخواه ایام تعطیل و وضع تنخواه ایام رخصت"
سوال (۱۳۰۴) :عربی مدارس میں رمضان شریف کی تعطیل ہوتی ہے،تو اس کی تنخواہ کا بلا معاوضہ کام ہونا تو ظاہر ہے باقی وقت بھی مدرس اپنا وقت مدرسہ میں محبوس نہیں رکھتا کہ اس کی وجہ سے لے سکے اب لینا اس کو کیسے درست ہے اگر مدرسہ کے مہتم کسی مدرس کو شعبان کی ۲۹ تاریخ کو مدرسہ کی ملازمت سے علیحدہ کر دے تو یہ مدرس رمضان کی تنخواہ کا مستحق ہے یا نہیں ؟
مدرس مدرسہ میں بحال رہتے ہوئے رمضان کی تعطیل میں رمضان کی تنخواہ کا کب مستحق ہوگا جب سب رمضان ختم ہو جائے یا ختم شعبان پر ؟
جواب:"تنخواہ تو ایام عمل ہی کی ہے مگر تعطیل کا زمانہ تبعاً ایامِ عمل کے ساتھ ملحق ہے تاکہ استراحت کر کے ایامِ عمل میں عمل کر سکے، اس سے سب اجزاء کا جواب نِکل آیا، اول کا یہ حکماً بلا معاوضہ کام کے نہیں، دوسرے کا یہ شعبان کے ختم پر معزول ہو جانے سے تنخواہ نہ ملے گی ،اور عدم عزل میں رمضان کے ختم پر تنخواہ ملے گی بشرطیکہ شوال میں بھی کام کیا ہو۔"
(كتاب الإجارة،ایام تعطیل کی تنخواہ لینے اور ایام رخصت کی تنخواہ وضع ہونے کا حکم، ج: 3، ص: 348، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"تعطیل کلاں کے بعد استعفیٰ پر تنخواہ کا استحقاق
سوال [۷۶۱۰] : پورے سال بھر پڑھانے کے بعد اگر کوئی شخص رمضان کی تعطیل میں استعفیٰ دینا چاہتا ہے تو وہ شرعا رمضان کی تنخواہ کا مستحق ہے یا نہیں ، اگر نہیں ہے تو کیا استحقاق کی کوئی صورت ہے؟
الجواب حامداً ومصلياً: یہاں قانون یہ ہے کہ رمضان کی تنخواہ کا استحقاق تعطیل ہونے کی صورت میں اُس وقت ہے جب کہ شوال میں مدرسہ کھلنے پر حاضر ہو کر کام کرے ورنہ استحقاق نہیں، وہاں کا قانون بھی یہی ہو تو حکم بھی یہی ہوگا ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم"
(باب ما یتعلق بالمدارس،ج:15،ص:530،ط:جامعہ فاروقیہ کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100098
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن