
میں نے اپنے شوہر سے کئی سال پہلے یہ کہا تھا کہ : "بازار سے سامان لے آؤ"،میں نے پرچی بھی دی تھی تو وہ ایک چیز نہیں لائے، تو میں نے کہا : پرچی پر یہ بھی لکھا ہوا تھا"، تو اس پر شوہر نے کہا : "اگر نہیں لکھا ہوا تو تم فارغ ؟" ( یعنی یہ جملہ سوال کے انداز میں کہا تھا)، البتہ شوہر کہتا ہے کہ میں نے یہ جملہ کہا تھا : "میں دوں؟" (یعنی میں اور میرا شوہر دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ جو جملہ کہا گیا ہے وہ سوال کے انداز میں کہا گیا ہے، البتہ جملے کے الفاظ میں اختلاف ہے )۔
اب پندرہ دن پہلے میں نے اپنے شوہر سے خرچہ مانگا ، اور میں نے کہا اگر تم خرچہ نہیں دیتے تو مجھے چھوڑ دو،تو شوہر نے کہا میں تمہیں طلاق نہیں دیتا، اس لیے کہ تمہارے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوجائے گی، تو اس پر بیوی نے کہا کہ : میں اچھی زندگی گزار لوں گی،اس کے بعد شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے یہ الفاظ کہے ہیں کہ : "کل سے تم آزاد اور فارغ"، شوہر کہتا ہے کہ میری ان الفاظ سے طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی۔ جبکہ بیوی کا کہنا ہے کہ شوہر نے اس کے جواب میں یہ جملہ کہا ہے :" آج ہم آخری بار مل رہے ہیں، اس کے بعد تم آزاد اور فارغ"۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے جو یہ جملہ کہا کہ : "اگر نہیں لکھا ہوا تو تم فارغ ؟" اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،سائلہ کا نکاح برقرار تھا، اس کے بعد شوہر نے پندرہ دن پہلے جو یہ جملہ استعمال کیا کہ : "کل سے تم آزاد اور فارغ"،یا بیوی کے قول کے مطابق شوہر نے یہ جملہ استعمال کیا ہے :" آج ہم آخری بار مل رہے ہیں، اس کے بعد تم آزاد اور فارغ" میں لفظ ِ آزاد سے اس سے ایک طلاق ِ بائن واقع ہوگئی ہے، میاں بیوی (سائلہ) کے مابین نکاح ختم ہوگیا ہے، عورت (سائلہ) مکمل عدت (تین ماہواریاں اگر ماہواری آتی ہو اور حاملہ نہ ہو،بچہ کی پیدائش تک اگر حاملہ ہو) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
اگر فریقین باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو دو گواہوں کی موجودگی میں از سر نو مہر مقرر کرکے نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور آئندہ شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے :
"ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف.
(قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية."
(کتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 252، ط: دار الفکر بیروت)
احسن الفتاوی میں ہے:
"تیسرا جملہ (میں نے آزاد کردیا)صریح بائن ہے، لہذا اس سے طلاق کی نیت ہو یا نہ ہوبہرحال ایک طلاق بائن ہو گئی۔"
(کتاب الطلاق ، ج: 5، ص: 202، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100536
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن