بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

استحاضہ میں کیا حکم ہے؟


سوال

استحاضہ میں کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ”حیض“ اور” نفاس“ کے علاوہ خواتین کو جو خون آتا ہے، شریعت کی اصطلاح میں اسے ”دمِ استحاضہ“  کہا جاتا ہے،اس حالت خواتین کے لیے  حکم یہ ہے کہ وہ  ان ایام  میں نماز، روزہ ، تلاوتِ کلامِ مجید و دیگر تمام عبادات کر یں گی،تاہم  ہر نماز (مثلا: ظہر)کے وقت کے لیے نیا وضو کریں گی اور اس (مثلاً:ظہر کی )نماز کے وقت کے ختم ہونے تک اسی وضو سے نماز(فرض، سنت اور نوافل)، تلاوت، طواف وغیرہ کر سکتی ہیں، بشرطیکہ کوئی اور وضو توڑنے کا سبب پیش نہ آئے، اور نماز کا وقت ختم ہوتے ہی ان کا وضو بھی ختم ہو جائے گا، اور اگلی نماز وغیرہ کے لیے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہوگا۔

البحرالرائق میں ہے:

"قال الأزهري: الاستحاضة سيلان الدم في غير أوقاته المعتادة.

(كتاب الطهارة، باب الحيض،1 / 220، الناشر: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں  ہے:

"(والناقص) عن أقله(والزائد) على أكثره أو أكثر النفاس أو على العادة وجاوز أكثرهما. (وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة) ."

(کتاب الطہارۃ،باب الحيض،283،284،285/1، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة كما أشار إليه بقوله أو على العادة إلخ. أما إذا لم يتجاوز الأكثر فيهما، فهو انتقال للعادة فيهما، فيكون حيضا ونفاسا رحمتي."

(کتاب الطہارۃ،باب  الحيض،285/1، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"(ولو زاد الدم على أكثر الحيض والنفاس فما زاد على عادتها استحاضة)؛ لأن ما رأته في أيامها حيض بيقين وما زاد على العشرة استحاضة بيقين وما بين ذلك متردد بين أن يلحق بما قبله فيكون حيضًا فلاتصلي وبين أن يلحق بما بعده فيكون استحاضةً فتصلي فلاتترك الصلاة بالشك فيلزمها قضاء ما تركت من الصلاة".

(كتاب الطهارة، باب الحيض،1 / 223، الناشر: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتا كاملا (لا يمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا) لحديث «توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير."

(کتاب الطہارۃ،باب  الحيض،298/1، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101558

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں