بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 محرم 1448ھ 18 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اسقاط حمل سے قبل ڈاکٹر کا وجہ اسقاط کی تحقیق کرنا


سوال

امراض نسواں کے ڈاکٹر کے پاس اگر حاملہ خواتین خواہ مسلم ہوں  یا غیر مسلم،  چار مہینے سے پہلے اسقاط کرانے کے لیے آئے تو کیا ڈاکٹر کے لیے  علی الاطلاق اسقاط کرنا یا اس کی دوائی دینا جائز ہوگا یا اسقاط کی وجہ کی تحقیق ضروری ہوگی؟

کیا ایک معالج کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عذر کے شرعی اور غیر شرعی ہونے کا اطمینان حاصل کرے؟

جواب

شریعت نے مخصوص وجوہات پائے جانے کی صورت میں کسی خاتون کو حمل کے ابتدائی چار ماہ کے اندر اسقاط کی اجازت دی ہے،بغیر کسی معتبر عذر کے حمل کو ضائع کرنا گناہ ہے،  مریض اگر معالج سے  اسقاط حمل کا مطالبہ کرے تو معالج کے لیے اس سے اسقاط کی وجہ معلوم کرنا ضروری ہے، اگر واقعۃ حمل باقی رہنے کی صورت میں عورت کی جان کو(  حمل سے)   خطرہ  ہو یا کسی شدید مضرت کا اندیشہ ہو ، تو اسقاط کی گنجائش ہوگی، بصورت دیگر بغیر کسی وجہ کے حمل ضائع کرنے کی صورت میں معالج بھی گناہ کے کام میں تعاون کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔ 

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "انصر أخاك ظالما أو مظلوما"، فقال رجل: يا رسول الله، أنصره إذا كان مظلوما، أفرأيت إذا كان ظالما كيف أنصره؟! قال: "تحجزه أو تمنعه من الظلم، فإن ذلك نصره."

(کتاب الإکراہ، باب يمين الرجل ...الخ، ج: 9، ص: 65، ط:دار التأصیل)

ترجمہ:حضرت  انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔“ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب وہ مظلوم ہو تو میں اس کی مدد کروں گا لیکن آپ کا کیا خیال ہے جب وہ ظالم ہو گا پھر میں اس کی مدد کیسے کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تم اسے ظلم سے روکنا کیونکہ یہی اس کی مدد ہے۔"

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق» . رواه في شرح السنة"

(کتاب الأمارة والقضاء، الفصل الثاني، ج:2، ص: 1092، ط: المکتب الإسلامي)

ترجمہ: حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : مخلوق کی اطاعت کے لیے خالق کی نافرمانی جائزنہیں ۔"

تفسیر ابن کثیرمیں ہے:

"وقوله تعالى: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم، قال ابن جرير: الإثم ترك ما أمر الله بفعله والعدوان مجاوزة ما حد الله في دينكم ومجاوزة ما فرض الله عليكم في أنفسكم وفي غيركم."

(سورۃالمائدۃ، ج: 3، ص: 301، ط: دار ابن الجوزي)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."

(سورۃ المائدۃ، ج: 2، ص: 381، ط: دار الکتب العلمیة)

شرح صحیح بخاری لابن بطال میں ہے:

"وذلك أن النبى عليه السلام قال: (أنصر أخاك ظالمًا أو مظلومًا) وقال: إن المؤمنين جميعًا كالجسد الواحد، وعلى المرء أن يسعى لصلاح كل عضو من أعضاء جسده سعيه لبعضها، فكذلك عليهم فى اخوانهم فى الدين وشركائهم فى المله، وإنصارهم على الأعداء من نصرهم وعونهم مثل ماعليهم من ذلك فى أنفسهم لأنفسهم، إذ كان بعضهم عونًا لبعض وجميعهم يد على العدو."

(کتاب الإستئذان، باب افشاء السلام، ج: 9، ص: 16، ط: مکتبة الرشد)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101117

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں