
1۔اسمگلنگ کے کاروبار کا کیا حکم ہے؟
2۔اگر کوئی شخص اصحاب رسول ﷺ سے بغض وعداوت رکھے،ان کو برا بھلا کہے ،گالیاں دیں ،لیکن وہ آپ ﷺ سے بغض نہ رکھتاہوتو کیا یہ شخص مسلمان باقی رہے گا یا نہیں ؟
1۔ناجائز اشیاء کی اسمگلنگ ناجائز اورجائز کی فی نفسہ جائز ہے، لیکن جب عوام الناس کے مفاد کی خاطر حکومتی سطح پر جائز اشیاء کی اسمگلنگ ممنوع ہو تو اس سے اجتناب ضروری ہے؛ کیوں کہ کسی بھی ریاست میں رہنے والا شخص اس ریاست میں رائج قوانین پر عمل درآمد کا (خاموش) معاہدہ کرتاہے، اور جائز امور میں معاہدہ کرنے کے بعد اسے پورا کرنا دیانتًا ضروری ہوتاہے؛ اس طرح کے جائز امور سے متعلق قانون کی خلاف ورزی گویا معاہدہ کی خلاف ورزی ہے، اور معاہدے کی خلاف ورزی سے شریعت نے منع کیا ہے۔ نیز قانون شکنی کی صورت میں مال اور عزت کا خطرہ رہتا ہے، اور پکڑے جانے کی صورت میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ سزا ملنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے، اور اپنے آپ کو ذلت کے مواقع سے بچانا شرعاً ضروری ہے؛ لہذا اس طرح باڈر وغیرہ سے اشیاء کی اسمگلنگ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ البتہ جائز اشیاء کی اسمگلنگ سے جو نفع حاصل ہو گا، وہ حرام نہیں ہو گا، اور اسمگل شدہ ان چیزوں کی خرید و فروخت بازاروں میں پہنچنے کے بعد بھی ممنوع ہو تو اس کا حکم بھی مذکورہ تفصیل کے مطابق ہوگا۔
2۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا مقام اور ان سے محبت یا بغض یاعداوت رکھنے والوں کا مقام اور حکم خود حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے بیان فرما رکھا ہے،اس کی روشنی میں ایسے لوگوں کا حکم بالکل واضح ہے۔ چنانچہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے اس سلسلے میں چندارشادات ملاحظہ ہوں:
1: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو،میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو،ان کو میرے بعد ہدف اورنشانہ ملامت مت بنانا،،یادرکھو جو شخص ان کودوست رکھتا ہے، تو وہ میری وجہ سے ان کو دوست رکھتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھتا ہے تو وہ مجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب ان کو دشمن رکھتا ہے، اورجس شخص نے ان کو اذیت پہنچائی اس نےگویا مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے گویا خدا کو اذیت پہنچائی،اور جس نے خدا کو اذیت پہنچائی تو وہ دن دور نہیں جب خدا اس کو پکڑے گا۔
2: تم میرے صحابہ کو برا نہ کھو، حقیقت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص احدپہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس کا ثواب میرے صحابہ کے ایک مدیاآدھے مد کے ثواب کے برابربھی نہیں پہنچ سکتا۔
اس کے علاوہ اور بھی متعدّداحادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو گالی دینا، براکہنا یا ان پر تبرّا کرنا حرام اور باعثِ فسق وگمراہی ہے، نیز اس سے ایمان ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔باقی رہا حضراتِ شیخین(خلیفہ اول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ) کو گالی دینا اور حضرت ابوبکر صدیقِ رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار تو یہ کفر ہے۔
سنن الترمذی میں ہے:
"عن عبد الله بن مغفل، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «الله الله في أصحابي، لا تتخذوهم غرضا بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله فيوشك أن يأخذه»"
(باب فيمن سب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، ج: 5، ص: 695، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي مصر)
صحیح مسلم میں ہے:
عن أبي سعيد قال: « كان بين خالد بن الوليد وبين عبد الرحمن بن عوف شيء فسبه خالد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تسبوا أحدا من أصحابي؛ فإن أحدكم لو أنفق مثل أحد ذهبا ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه ».
(باب تحريم سب الصحابة رضي الله عنهم، ج: 7، ص: 188، ط: دار الطباعة العامرة - تركيا)
مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " سألت ربي عن اختلاف أصحابي من بعدي فأوحى إلي: يا محمد إن أصحابك عندي بمنزلة النجوم في السماء بعضها أقوى من بعض ولكل نور فمن أخذ بشيء مما هم عليه من اختلافهم فهو عندي على هدى " قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم."
(کتاب المناقب، باب مناقب الصحابة، ج: 3، ص: 1696، ط: المکتب الإسلامي)
سنن الترمذی میں ہے:
"عن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه» قالوا: وكيف يذل نفسه؟ قال: «يتعرض من البلاء لما لا يطيق»: هذا حديث حسن غريب".
(ابواب الفتن، ج:4، ص: 523، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي مصر)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"وإذلال النفس حرام، قال: - صلى الله عليه وسلم - «ليس للمؤمن أن يذل نفسه".
(كتاب النكاح، باب الاكفاء، ج:5، ص:23، ط: دارالمعرفة بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
" نقل عن البزازية عن الخلاصة: أن الرافضي إذا كان يسب الشيخين و يعلنها فهو كافر ... و سب أحد من الصحابة و بغضه لا يكون كفراً لكن يضلل."
(کتاب الجهاد، باب المرتد، ج: 4، ص: 237، ط: سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101633
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن