بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلامک فنانس کا حکم


سوال

میں متحدہ عرب امارات (UAE) میں مقیم ہوں اور مجھے شارجہ اسلامک بینک سے ذاتی (Personal) فنانس/لون لینے کی ضرورت ہے، یہ فنانس اسلامی (Shariah-compliant) فنانس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بینک کی طرف سے درج ذیل شرائط بتائی گئی ہیں:

1.منافع کی شرح (5.29%Profit Rate

2.پروسیسنگ فیس (Processing Fee): 1.05%

3.انشورنس چارجز: 0.0001%

4.لیٹ پیمنٹ فیس: 210 درہم

میرا سوال یہ ہے کہ کیا شریعت کی رو سے ان شرائط کے ساتھ یہ اسلامی پرسنل فنانس/لون لینا جائز اور حلال ہوگا؟

Profit rate.1

Processing fees.2

Insurance.3

Late payment fee.4

1. کیا یہ منافع کی شرح (profit rate) کسی سود کی تعریف میں آتی ہے؟

2. پروسیسنگ فیس اور انشورنس چارجز لینا درست ہے؟

3. اگر قسط لیٹ ہو جائے تو لیٹ فیس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

4. مجموعی طور پر کیا اس طرح کا اسلامی فنانس شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ یا پھر کون کون سےشرائط کے ساتھ لون لینا جائز اور حلال ہوگا؟

جواب

کسی بھی بینک ( چاہے وہ مروجہ اسلامی بینک ہو یا غیر اسلامی ) سے سودی قرض لینا جائز نہیں ہے کہ سودی بینکوں او ر مروجہ اسلامی بینکوں کے طریقہ کار اور نظام میں کوئی خاص فرق نہیں ہے،صرف نام اور اصطلاحات کا فرق ہے،اس لیے کسی بھی بینک سے لون لینا جائز نہیں ہے۔

منافع کا لین دین سود کہلائے گا، انشورنس کروانا الگ گناہ، لیٹ فیس بھی ناجائز، لہذا مجموعی طور پر اسلامی فنانس جائز نہیں۔

اگر قرض کی ضرورت ہو تو بینک کے علاوہ نجی  طور پر کسی سے غیر سودی قرض لے لیا جائے، بینک سے قرض لینا کسی صورت جائز نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر".

(کتاب البیوع، فصل فی القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام   (5/ 166)،ط: سعيد،كراچی)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101462

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں