بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلامک کار فنانسنگ میں مشارکہ کی بنیاد پر گاڑی لینے کا حکم


سوال

میں H B L کی اسلامک کار فنانسنگ کے ذریعہ تین سال کی مشارکہ کی شرائط کی بنیاد پر گاڑی لینا  چاہتا ہوں، جو میرے کاروبار ی لحاظ سے آسانی رہے گی، اور اقساط دینا بھی آسان رہیں گی، تو کیا اس طرح کرنا میرے لیے جائز ہے؟ 

جواب

بینک کے ذریعہ گاڑی خریدنا جائز نہیں ہے، بینک کے علاوہ دیگر اداروں سے قسطوں پر گاڑی یا دیگر اشیاء لینا جائز ہے، تاہم شرط یہ ہے کہ عقد کے وقت کوئی ایک قیمت متعین کرلی جائے  (اگرچہ وہ قیمت نقدی معاملہ کی قیمت سے زیادہ ہو) اور یہ طے کرلیا جائے کہ خریداری نقد پر ہورہی ہے یا ادھارپر، اور ادھار کی مدت طے کرلی جائے، اور قسط کی مدت بھی متعین کردی جائے اور قسط میں تاخیر ہونے کی صورت میں کوئی اضافہ/ جرمانہ وصول نہ کیاجائے۔ 

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌عن ‌بيعتين في بيعة. رواه مالك والترمذي والنسائي."

(کتاب البیوع ، باب الربا جلد :2،  ص :867 ط : المکتب الاسلامي ۔ بیروت)

وفيه أيضًا:

"وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في صفقة واحدة. رواه في شرح السنة."

(کتاب البیوع ، باب الربا جلد:2،  ص : 867،  ط : المکتب الاسلامي ۔ بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله لا بأخذ مال في المذهب)......إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(کتاب الحدود ، باب التعذیر ج:4، ص : 61، ط : دارالفکر)

فقط واللہ أعلم   


فتویٰ نمبر : 144706100408

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں