
موجودہ زمانے میں جب مدارس دینیہ کو مالی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو ان کی کفالت کے لیے مہتممین اور دیگر ذمہ دار حضرات مختلف وسائل اختیار کرتے ہیں جن میں بیرون ملک جا کر چند اکٹھا کرنا ایک معروف اور رائج طریقہ ہے، بظاہر یہ عمل کار خیر ہے، کیونکہ مقصد دین کے مرکز کو قائم رکھنا ہوتا ہے، لیکن اگر اس پر غور کیا جائے تو اس میں بعض دینی اخلاقی اور قانونی پیچیدگیاں پوشیدہ ہیں، جن پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔
(1)کئی بیرونی ممالک میں قانونًا چندہ جمع کرنا منع ہے، وہاں کے قوانین کے خلاف ورزی شمارہوتاہے جو ایک مسلمان کے لیے شرعی اعتبار سےبھی درست نہیں ہے،کیونکہ ان قوانین کی پاسداری لازم ہے، جب تک کہ وہ شریعت سے متصادم نہ ہوں ۔
(2)اکثر دیکھا گیا کہ چندہ ایسے افراد سے جمع کیا جاتا ہے جو غربت و تنگ دستی کا شکار ہوتے ہیں، مزدور، دیہاڑی دار اور عام محنت کش افراد جو بمشکل اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے ہیں، ان سے چندہ لینا اور کبھی اصرار کرنا اخلاقی لحاظ سے نہایت قابل غور ہے،ان میں سے بہت سے افراد دباؤ یا مروت کی وجہ سے رقم دیتے ہیں نہ کہ خوش دلی سے جو کہ فی سبیل اللہ انفاق کے معیار میں پورانہیں اترتا۔
(3)بعض اوقات ہمارے محترم علماء وسفراءحضرات کو بیرون ملک جا کر اپنی عزت نفس کو داؤ پر لگا کر بس اوقات بے توقیر ہو کر چند ہ مانگنا پڑتا ہے، کہیں بدزبانی، کہیں انتظار کی ذلت تو کہیں وعدے کے باوجود انکار ،یہ سب وہ امور ہیں جو دینی نما ئندوں کے شایان شان نہیں ۔
اس طریقہ سے چندہ اکھٹاکرنے کا کیا حکم ہے ؟ اور اگر کسی نے اکٹھا کیا تواس چندے سے مدرسے کی ضروریات کو پوری کر سکتے ہیں؟
(1)جب کوئی مسلمان کسی دوسرے ملک خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم میں قانونی طریقے سے (مثلاً ویزہ کے ذریعے) داخل ہوتا ہے، تو شرعاً یہ عمل عقدِ امان اور معاہدہ کے حکم میں ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فرد اس ملک کے نظام، ضوابط اور قانونی دائرے کو تسلیم کر کے اس میں داخل ہوا ہے،چونکہ اسلام میں عہد و امان کی وفاداری اور معاہدات کی پاسداری لازم ہے، اس لیے ایسے شخص پر اس ملک کے قوانین کی پابندی بھی شرعاً لازم ہوگی بشرطیکہ وہ قوانین صریح اسلامی احکام سے متصادم نہ ہوں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی مسلمان ایسے ملک میں جائے جہاں قانونی طور پر چندہ جمع کرنے پر پابندی ہو، تو اس آدمی کے لیےاس ملک میں دینی مدارس یا کسی اور مقصد کے لیے چندہ کرنا درست نہیں ہوگا،تاہم اگر کوئی شخص چپکے سے دین دار افراد سے چندہ حاصل کرتا ہے اور وہ افراد خوش دلی اور طیبِ نفس کے ساتھ بغیر کسی جبر یا فریب کے یہ مال دیتے ہیں،تو ایسی صورت میں اس چندے کو اسی مصرف میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے جس کے لیے جمع کیا گیا ہے۔
(2)"ایسے افراد جو معاشی طور پر کمزور، غریب، تنگ دست ہوں اور روزانہ کی مزدوری یا دیہاڑی کے ذریعے اپنے اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات پوری کرتے ہوں، ان سے چندہ مانگنا از خود مناسب نہیں ،اور اگر ان سے چندے کے لیے اصرار، دباؤ، یا کسی قسم کی زور آزمائی کی جائے، جس سے وہ طیبِ نفس کے بغیر مجبوراً کچھ دے دیں، تو شرعاً ایسا چندہ لینا کسی صورت جائز نہیں ۔اور نہ اس چندے کا استعمال جائز ہے بلکہ اس کو واپس کرنا ضروری ہے ،البتہ اگر یہ لوگ رضا مندی اور اپنی وسعت کے مطابق، آخرت کی نجات اور دینی خیرات کے جذبے سے خود کچھ دینا چاہیں، تو ایسی صورت میں ان کا دیا ہوا مال لینا جائز ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
(3) واضح رہے کہ دینِ اسلام ایک بلند، ارفع اور غالب دین ہے، جو پوری انسانیت کی رہنمائی اور اصلاح کے لیے نازل کیا گیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔یہ دین کسی کے مالی تعاون یا چندے کا محتاج نہیں، اور نہ ہی اس کے اشاعتی مراکز یا دینی مدارس و جامعات کسی کے سہارے کھڑے ہیں،بلکہ دنیا کے تمام مسلمان درحقیقت خود اسی دین اور اس کے علمی و روحانی مراکز کے محتاج ہیں، جہاں سے ان کو ہدایت، علم، اصلاح اور قربِ الٰہی کا سامان مہیا ہوتا ہے،لہٰذا ایسے بلند اور مقدس مشن کے حامل اداروں کے لیے چندہ کرنے کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جو ان اداروں کی عظمت، علماء کی عزت اور طلباء کی حرمت کے شایانِ شان ہو،وہ طریقے جن سے ان کی تحقیر، توہین یا شرمندگی کا پہلو نکلتا ہو، یا جن سے ان کے وقار و عظمت کو ٹھیس پہنچے، وہ نہ صرف غیر مناسب بلکہ شرعاً ناپسندیدہ عمل ہے،ایسے طریقوں سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے ۔
تاہم اگر کوئی شخص ان آداب کی رعایت کئے بغیر چندہ لے لے، اور وہ مال طیبِ نفس سے دیا گیا ہو، تو اس سے مدرسے کی ضروریات پوری کرناجائز ہوگا۔
قرآن میں ہے :
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ"(سورہ المائدہ: 1)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے معاہدوں کو پورا کرو۔"
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ میں ہے:
"وعن أبي حرة الرقاشي، عن عمه - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم " ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه". رواه البيهقي في " شعب الإيمان "، والدارقطني(إلا بطيب نفس ) أي: بأمر أو رضا منه."
[باب الغصب والعارية، ج:5، ص:1974، ط: دار الفكر.]
فتاویٰ شامی میں ہے:
"المستأمن أي الطالب للأمان (هو من يدخل دار غيره بأمان) مسلما كان أو حربيا (دخل مسلم دار الحرب بأمان حرم تعرضه لشيء) من دم ومال وفرج (منهم) إذ المسلمون عند شروطهم (فلو أخرج) إلينا (شيئا ملكه) ملكا (حراما) للغدر (فيتصدق به) وجوبا، قيد بالإخراج لأنه لو غصب منهم شيئا رده عليهم وجوبا.
(قوله إذ المسلمون عند شروطهم) لأنه ضمن بالاستئمان أن لا يتعرض لهم، والغدر حرام.
(قوله فلو أخرج إلخ) تفريغ لكون الملك حراما على حرمة التعرض كما أشار إليه بقوله للغدر.
(قوله فيتصدق به) لحصوله بسبب محظور وهو الغدر.
(قوله قيد بالإخراج لأنه لو غصب إلخ) يعني ولم يخرجه لأنه محترز القيد، وعبارته في الدر المنتقى قيد بالإخراج لأنه لو لم يخرجه وجب رده عليهم للغدر."
(كتاب الجهاد، باب المستامن، ج:4، ص:166، ط:سعيد)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے :
"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده".
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية] (المادة 97) ،ج:1،ص :98،ط: دارالحیل)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101892
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن