
ہم نے ”آمنو“نامی ایک ایپ بنائی ہے، جس کو استعمال کرنے والے لوگ قرآن کریم اور احادیث کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس ایپ میں لوگ قرآن کریم کو مصنوئی ذہانت کا استعمال کر کے اپنی مادری زبان میں سمجھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جیسے ایک عالم اردو میں قرآن کا ترجمہ پڑھ کر پنجابی یا کسی اور زبان میں سمجھائے، ایسے ہی یہ ایپ ایک زبان میں لیا گیا ترجمہ استعمال کرنے والے کی مادری زبان میں لکھ کر دے گی۔ ہماری ایپ میں مختلف اور مستند علماء اکرام کے کیے گئے تراجم موجود ہیں، اس کے علاوہ مختلف تفاسیر بھی رکھی گئی ہیں اور مزید کام کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ لوگ ہمارے ایپ پر آ کر مسائل پوچھ سکتے ہیں اور ہم مختلف مسالک کی ویب سائٹ سے جواب لا کر دیتے ہیں، جیسا کہ www.banuri.edu.pk اور https://daruliftaahlesunnat.net اور www.muhaddis.com وغیرہ۔ اس کے علاوہ مستقبل میں اس پر لوگ آ کر براہ راست علماء اکرام سے سوالوں کے جواب بھی لے سکیں گے۔علماء کرام کے پاس اب تک ایسا پلیٹ فارم موجود نہیں جس پر وہ خصوصا بچوں کو آن لائن تعلیم دے سکیں، ہم مستقبل میں اس پر بھی اور ایسی بہت سی چیزوں پر کام کر رہے ہیں۔ اس ایپ کو مستند علماء کی زیر نگرانی اور مکمل راہ نمائی میں بنایا گیا ہے اور کسی اختلاف کی کوئی جگہ نہیں چھوڑی گئی، ایپ میں لگائی گئی قرآنی آیات کہ حفاظ سے پڑھا کر مکمل تصدیق کی گئی ہے، جب کہ ایپ استعمال کرنے والوں کو اگر کوئی غلطی نظر آتی ہے تو ان کو رابطے کے لیے نمبر دیے گیے ہیں، اور ہم اس غلطی کہ دور کرنے کے مکمل پابند ہوں گے۔ ہم اس ایپ کو اب PlayStore پر پبلش کر رہے ہیں، براہ کرم راہ نمائی فرما دیں کہ کیا ایسی ایپ بنانا اور پبلش کرنا جائز ہے؟ اور دوسرا اس کے متعلق اورراہ نمائی بھی فرما دیں کہ ہمیں اس کے علاوہ مزید کس چیز پر فوکس کرنا چاہیے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیان کے مطابق چونکہ مذکورہ ایپ میں مختلف تراجم و تفاسیر اور مختلف ذرائع سے حاصل شدہ مواد شامل ہے، اور یہ ترجمہ وتفاسیر کون سی ہیں؟ کیا وہ اہلِ حق کے معتبر علماء کی لکھی ہوئی ہیں یا کسی باطل یا بدعتی مکتبۂ فکر کی؟ اس کا صحیح اندازہ تحقیق کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح مختلف مکتبۂ فکر کی ویب سائٹس سے مسائل اور جوابات جمع کرنے کی وجہ سے اہلِ حق و اہلِ باطل، دونوں کی آراء ایک ہی پلیٹ فارم پر آنے کا اندیشہ رہتا ہے، جس سے عوام الناس میں فکری انتشار یا مغالطہ پیدا ہوسکتا ہے۔
لہذا اگرچہ بظاہر اس ایپ کا مقصد دینی معلومات و تعلیمات کی فراہمی ہے، تاہم جب تک اس کے تمام مندرجات، تراجم، تفاسیر، اور دینی مواد کی فہرست کو دیکھ نہیں لیا جاتا، اس کی صحت و درستی کے بارے میں حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101170
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن