
غیر مسلم ذمیوں کو اسلام سواری استعمال کرنے، مسلمانوں جیسا لباس پہننے اور ٹوپی پہنے سے روکتا ہے؟
یہ قرآن کی کس آیت سے ثابت ہے؟
ہمارے یہاں کچھ مولوی کہتے ہیں کہ قرآن کا حکم ہے کہ ذمیوں پر مذکورہ پابندیاں عائد کی جائیں؟
واضح رہے کہ قرآنِ کریم اصول اور کلیات بیان کرتا ہے، اور ان اصولوں کی تفصیل و تطبیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور احادیثِ مبارکہ سے واضح ہوتی ہے، پھر محدثین اور فقہاء کرام انہی نصوص کی روشنی میں احکام کی شرح، توضیح اور استنباط کرتے ہیں۔
لہٰذا ہرمسئلہ کا ثبوت قرآنی آیات کے عبارۃ النص سے ہونا شرعاً ضروری نہیں،کیوں کہ بعض احکام کا ثبوت اشارۃ النص یا دلالت النص سے بھی ہوتا ہے۔
اسلام ایک جامع دین ہے جو انسانی معاشرے میں عدل، امن اور نظم قائم کرتا ہے،اور چوں کہ اصل دین حق اسلام ہے ،اور دوسرے جتنے بھی ادیان ہیں وہ سب خود ساختہ ہیں ،اور اسی بنیاد پر اسلامی ریاست میں مسلمانوں کی دینی و سیاسی شناخت کو ایک امتیازی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
آیتِ جزیہ میں غیر مسلم رعایا کے لیے "صغار" کا ذکر آیا ہے، جس کی تفسیر میں بعض فقہاء نے مسلمانوں اور اہلِ ذمہ کے مابین ظاہری امتیاز کو بھی شامل کیا ہے، جیسے لباس اور سواری میں فرق،اورایسا کرنا اہل ذمہ کی رعایت کرتے ہوئے کیا گیا ہے،تاکہ ظاہری حالت کی بنیاد پر حکومت اسلامیہ اہل ذمہ کو ان امور کا پابند نہ کریں،جو مسلمانوں کے ساتھ خاص ہیں؛اس ظاہری امتیاز کے باوجوداسلامی ریاست میں تمام غیرمسلم اقلیتوں اور رعایا کو عقیدہ، مذہب، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت حاصل ہوتی ہے۔ وہ انسانی بنیاد پر شہری آزادی اور بنیادی حقوق میں مسلمانوں کے برابر شریک ہوتے ہیں۔
پس قانون کی نظر میں سب کے ساتھ یکساں معاملہ کیا جائے گا، بحیثیت انسان کسی کے ساتھ کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔
قرآن کریم میں ہے:
"قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ."
ترجمہ:اہل کتاب جو کہ نہ خدا پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام بتلایا ہے اور نہ سچے دین (اسلام) کو قبول کرتے ہیں ان سے یہاں تک لڑو کہ وہ ماتحت ہوکر اور رعیت بنکر جزیہ دینا منظور کریں.(ماَخوذ از بیان القرآن)
اس آیت کی تفسیر میں معارف القرآن میں مفتی شفیع صاحب نے لکھا ہے:
"آیت مذکورہ میں عطاء جزیہ کے ساتھ جو عَنْ يَّدٍ فرمایا ہے اس میں حرف عَنْ بمعنی سبب اور يَّدٍ بمعنی قوت و غلبہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ یہ جزیہ کا دینا بطور اختیاری چندہ یا خیرات کے نہ ہو، بلکہ اسلامی غلبہ کو تسلیم کرنے اور اس کے ماتحت رہنے کی حیثیت سے ہو ( کذا فی الروح ) اور وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ کے معنی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کے مطابق یہ ہیں کہ وہ لوگ اسلام کے عام ( جنرل ) قانون کی اطاعت کو اپنے ذمہ لازم قرار دیں. ( روح المعانی و مظہری)
اور اس آیت میں جو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جب یہ لوگ جزیہ ادا کرنا منظور کرلیں تو جنگ بند کردی جائے، اس میں جمہور فقہاء کے نزدیک تمام کفار شامل ہیں، خواہ اہل کتاب ہوں یا غیر اہل کتاب البتہ مشرکین عرب اس سے مستثنیٰ ہیں کہ ان سے جزیہ قبول نہیں کیا گیا ۔"
المحيط البرهانی میں ہے:
"وينبغي أن لا يترك أحدا من أهل الذمة يتشبه بالمسلمين في ملبوسه ولا في ركوبه، ولا في زيه وهيئته، والأصل فيه ما روي عن عمر رضي الله عنه: أنه كتب إلى أمراء الأمصار أن لا يتركوا أهل الذمة يتشبهون بالمسلمن في لباسهم، ومركبهم، وهيآتهم، فهذا روي عن عمر رضي الله عنه ولم يرو عن غيره خلافه، فحل محل الإجماع.
قال: ويمنعون عن ركوب الفرس؛ لأن ركوب الفرس من باب العز والشرف، وما كان من باب العز فأهل الذمة يمنعون عنه؛ لأنهم من أهل الصغار، فيمنعون عنه إلا إذا وقعت الحاجة إلى ذلك؛ بأن استعان الإمام بهم في المحاربة، والذب عن المسلمين، ولا يمنعون عن ركوب البغل؛ لأنه نتيجة الحمار، ولا يمنعون من ركوب الحمار؛ لأن كل أحد لا يقدر على المشي، لكنهم يمنعون من أن يضعوا على الراكب سرجا كسرج المسلمين، وينبغي أن يكون على قربوس سرجهم مثل الرمانة؛ وهذا لأنهم كما أمروا بالمخالفة في هيئة اللباس، فكذلك أمروا بالمخالفة في هيئة المركب من حديث عمر رضي الله عنه."
(كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل السادس عشر في معاملة أهل الذمة، ج:5، ص:363، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144109200801
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن