بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلام میں استخارہ کا ثبوت اور استخارہ کے منفی اور مثبت پہلو پر عمل کرنے کا حکم


سوال

1) استخارہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے اور استخارہ کیا جائے ،اور جواب منفی آئے ،تو اس پر عمل کرنا لازم ہے یا نہیں؟ ہم نے اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے ایک استخارہ کیا ہے، میری بیوی اور میرا استخارہ رشتے کے بارے میں منفی آ رہا ہے۔

(2) ماں باپ کی زندگی میں وراثت تقسیم کی جا سکتی ہے یا نہیں ؟تاکہ بعد میں اولاد میں جھگڑا نہ ہو، اسلام میں اس بارے میں کیا حکم ہے؟

(3) ماں باپ اپنی زندگی میں تحفہ دے سکتے ہیں؟ اس میں کوئی حد ہے، جیسے صرف 1/3 جائیداد کا تحفہ دے سکتے ہیں یا ایسا کچھ نہیں ہے؟

جواب

1۔اسلام میں استخارہ کرنا  نہ صرف جائز  بلکہ  ایک  مسنون  اور  پسندیدہ عمل ہے، جو کسی بھی جائز کام (جیسے شادی، سفر، کاروبار) میں خیر اور رہنمائی طلب کرنے کے لیے کیا جاتا ہے،جس کی احادیث میں  ترغیب آئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو استخارہ کا طریقہ سکھلاتے تھے ۔ اور استخارہ کا معنی ہی "خیر طلب کرنا" ہے ،یعنی اپنے معاملات میں اللہ تعالی سے خیر اور بھلائی  کی دعا کرنا۔

 استخارہ کرنے میں یہ ضروری نہیں ہے ،کہ آدمی کو نیند میں کچھ نظر آئے ،بلکہ استخارہ کرنے کے بعد آدمی کی دل جس طرف زیادہ مائل ہوجائے ،تو اسی پر عمل کرنے میں خیر ہوگی ،ان شاء اللہ ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جب  استخارہ کے بعد سائل اور اس کی بیوی دونوں کا میلان بیٹی کے رشتے کے بارے میں منفی پہلو کی طرف ہے ،تو پھر وہاں رشتہ  نہیں کرنا چاہیے،کیونکہ نہ کرنے میں خیر  ہو گا ،اور اللہ تعالی اس سے بہتر جگہ بندوبست فرمائیں گے۔

2،3۔ واضح رہے کہ  والدین  جب تک حیات ہوتے ہیں، اپنی جائیداد کے  خود مالک  ومختار ہوتے ہیں ، وہ ہر جائز تصرف اس میں کرسکتے ہیں ، کسی  بھی بیٹے یا بیٹی کو یہ حق  حاصل  نہیں  ہے، کہ والدین  کو اس کی اپنی ملک میں تصرف  کرنے سے منع کرے ،نیز والد ین کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا ان کی جائیداد میں   کوئی حق  و حصہ  نہیں  ہوتا،  اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل  ہوتا ہے،  تاہم اگر صاحبِ جائیداد اپنی  زندگی میں  اپنی جائیداد  خوشی  ورضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اور اپنی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی جائے  وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے، اور  اس کے لیے شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات یہ ہیں ،کہ والد  تمام بیٹوں  اور بیٹیوں میں برابری کرے،  کسی معتبر وجہ کے بغیر کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے،  اور  نہ ہی بیٹے اور بیٹیوں میں فرق کرے(یعنی بیٹیوں کو  کم دینا یا  نہ دینا درست نہیں ہے)  اگر بلا وجہ بیٹے اور بیٹیوں میں سے کسی کو  کم دے گا، یا محروم کرے گا تو گناہ گار ہوگا۔

ہاں  اگر اولاد میں سے کسی بیٹے یا بیٹی کے زیادہ نیک و صالح ہونے یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی وجہ سے اس کو دیگر کے مقابلہ میں کچھ زائد دے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن کسی ایک کو بالکل محروم کرنا درست نہیں ہے۔ اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری کرنا ضروری ہوتی ہے،ورنہ والد  گناہ گار ہو گا، جیساکہ نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی  روایت میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»".

(مشکاة المصابیح، 1/261، باب العطایا، ط: قدیمی)

ترجمہ:حضرت نعمان بن بشیر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔

(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط: دارالاشاعت)

سننِ ترمذی میں ہے:

"حدثنا قتيبة قال: حدثنا عبد الرحمن بن أبي الموالي، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌يعلمنا ‌الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن."

ترجمہ: ’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہم (صحابہٴ کرام رضی اللہ تعالی عنہم) کو تمام کاموں میں استخارہ اتنی اہمیت سے سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی سورت کی تعلیم دیتے تھے‘‘۔

(أبواب الوتر، باب ما جاء في صلاۃ الاستخارة، ج:2، ص:345، رقم الحدیث:480، ط:مصطفى البابي الحلبي مصر)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن سعد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌سعادة ‌ابن آدم رضاه بما قضى الله له ومن شقاوة ابن آدم تركه استخارة الله ومن شقاوة ابن آدم سخطه بما قضى الله له» . رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث غريب".

(كتاب الآداب، باب التوکل و الصبر، ج:3، ص:1459، رقم الحدیث:5303، ط:المكتب الاسلامي بيروت)

حاشيۃ الطحطاوی علی  مراقی الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے :

" ندب "صلاة ‌الاستخارة" وقد أفصحت السنة عن بيانها قال جابر رضي الله عنه كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا ‌الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن يقول إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل "اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال عاجل أمري وآجله فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر".

(فصل في تحية المسجد وصلاه الضحي واحياء اللیالی ،ص:397، ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم."

(کتاب الھبۃ،ج:5، ص:696، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية."

(کتاب الھبۃ،الباب السادس فی الھبۃ للصغیر،ج:4، ص:437، ط: قدیمی کتب خانہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101510

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں