بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1447ھ 07 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلام میں غیر مسلم ایجادات و وسائل کے استعمال کا حکم


سوال

میں  انڈیا سے ہوں، یہاں ایک علماء کا چند افراد پر مشتمل طبقہ اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں سرگرم ہے، وہ پروجیکٹر کے ذریعہ اسکرین پر مسائل کا حل پیش کرتے ہیں ،مثلاً نکاح وغیرہ کے مسائل ، اس میں تصویر تو نہیں ہوتی، لیکن کبھی آ بھی جاتی ہے، تو میں نے اشکال کیا تو جواباًً کہا گیا کہ ہم تصویر کے بغیر صرف اسکرین پر لکھے گئے مسائل کی تعلیم دیتے ہیں ، تو پھر  میں نے اشکال کیا کہ  تصویر نہ  بھی ہو پھر بھی یہ طریقۂ کار غلط ہے، کیونکہ یہ باطل کی ایجاد ہے اور ہمیں اسلام کی اشاعت کرنا ہو تو اسلامی طریقہ کار پر ہی کرنا ہے، آپ اس کے لئے کتاب یا رسالے کی صورت  اختیار کریں، علماء دیوبند کا طریقہ اپنائیں، لیکن ان کی سمجھ میں  نہیں آئی،میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ پروجیکٹر پر تعلیم دینا یا پروگرام قائم کرنا کیسا ہے اگر تصویر ہو تو بالکل حرام لیکن نہ ہو تو آلۂ باطل ہونے کی وجہ سے عدم جواز کا فتوی دیا جائے گایا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  کسی چیز یا طریقۂ کار کو صرف اس وجہ سے حرام نہیں کہا جا سکتا کہ وہ غیر مسلموں کی ایجاد ہے یا ان کا  طریقہ کار ہے۔ اصل معیار یہ ہے کہ وہ طریقہ شریعت کے اصولوں سے ٹکراتا ہے یا نہیں ، اگر وہ شریعت کے خلاف نہ ہو تو اسے اختیار کرنا جائز بلکہ ضرورت و مصلحت کے وقت مفید بھی ہوتا ہے، اور اگر شریعت کے منافی ہو تو پھر اس کا اپنانا جائز نہیں،نبوی زندگی میں اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں ،جیسے کہ غزوۂ احزاب کے موقع پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی، حالاں کہ یہ طریقہ اہلِ فارس کا رائج تھا، مگر چونکہ  یہ شریعت کے خلاف نہ تھا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اسے اختیار فرمایا۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں علمائے کرام کی طرف سے لوگوں کی اصلاح کے لیے دینی علوم کو پروجیکٹر کے ذریعے سمجھانا، اور نکاح، حج وغیرہ کے مسائل کے حل پیش کرنا جائز ہے، لیکن اسکرین پر کسی جان دار کی تصویر یا کوئی غیر شرعی چیز نہ  دکھائی  جائے، وہ جائز نہیں۔

فتح الباری میں ہے:

"وهي الأحزاب يعني أن لها اسمين، وهو كما قال، والأحزاب جمع حزب أي طائفة، فأما تسميتها الخندق فلأجل الخندق الذي حفر حول المدينة بأمر النبي صلى الله عليه وسلم، وكان الذي أشار بذلك سلمان فيما ذكر أصحاب المغازي منهم أبو معشر قال قال سلمان للنبي صلى الله عليه وسلم: إنا كنا بفارس إذا حوصرنا، خندقنا علينا، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بحفر الخندق حول المدينة، وعمل فيه بنفسه ترغيبا للمسلمين."

(المغازي، باب غزوة الخندق، ج:7،ص:392، ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100882

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں