بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

اشراق کے بعد نوافل کا حکم


سوال

اشراق کی نماز کے بعد نفل پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نفل نماز مندرجہ ذیل اوقات میں پڑھنامکروہ ہے:

۱۔ صبح صادق کے بعد سے لے کر اشراق کا وقت ہونے تک۔

۲۔ عصر کی نماز کے بعد سے سورج غروب ہوجانے تک۔

۳۔ نصف النہار یعنی زوال کے وقت۔

ان تین اوقات کے علاوہ نفل نماز جس وقت چاہیں پڑھ سکتے ہیں، الا یہ کہ کوئی عارضی سبب مانع ہو، مثلاً: خطبۂ جمعہ کے دوران یا فرض نماز کھڑی ہوجائے یا عید کے دن نمازِ عید کے بعد عیدگاہ میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے، وغیرہ۔

لہذا اشراق کا وقت داخل ہونے کے بعد اشراق پڑھنے سے پہلے یا بعد میں نفل نماز پڑھنا جائز ہے، ملحوظ رہے کہ اشراق کی نماز خود نفل نماز ہے، اگر اشراق کی نیت سے نماز ادا کرکے اس کے بعد عام نفل کی نیت سے نماز ادا کی جائے، یہ بھی جائز ہے، اسی طرح اشراق کے وقت میں مطلق نفل کی نیت سے نماز ادا کی جائے تو بھی اشراق کا استحباب حاصل ہوجائے گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 52):
"ثلاث ساعات لاتجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة: إذا طلعت الشمس حتى ترتفع، وعند الانتصاف إلى أن تزول، وعند احمرارها إلى أن يغيب إلا عصر يومه ذلك فإنه يجوز أداؤه عند الغروب. هكذا في فتاوى قاضي خان".
 فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144112200046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں