بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عشاء اور فجر کا وقت


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ میں نمازوں کے اوقات اور روزوں کی افطاری و سحری  کے لیے کوئی نقشہ ابھی کسی نے تیار نہیں کیا۔ اب حقیر کا ارادہ ہے کہ ایک نقشہ تیار کیا جائے جس سے لوگ نماز اور افطاری و سحری کا وقت باآسانی معلوم کرسکیں، مگر احسن الفتاوی میں حضرت مفتی اعظم مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ نے عشاء اور فجر کا فارمولا تحریر فرمایا ہے اس میں اکابر علیہم الرحمہ کا اختلاف نقل کیا ہے چنانچہ مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب اور محدث العصر حضرت محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کا یہ موقف بیان فرمایا ہے کہ 18 درجہ زیر افق کا وقت عشا اور فجر کا ہے اور مفتی اعظم مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ کا موقف 15 درجہ زیرافق نقل کیا ہے اور دونوں موقفوں کے درمیان وقت بھی زیادہ کا آرہا ہے ، تقریبا 12 منٹ سے 18 منٹ تک کہیں نہ کہیں فرق محسوس ہوتا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ ہم نقشہ کیسا تیار کریں اور مفتی بہ قول موجودہ وقت میں کون سا ہے جس پر عمل کرنے سے امت میں انتشار پیدا نہ ہو ؟برائے کرم تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔ 

جواب

فجر اور عشاء کے وقت کے متعلق  معمول بہ اور مفتی بہ قول 18درجہ زیر افق کا ہے، لہذا اسی کے مطابق نقشہ جات بنائیں جائیں۔ حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب رحمہ اللہ، مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اور دیگر اکابرین کے مشاہدات، متعدد فلکیین(البیرونی وغیرہ)  کی صراحت  اور جدید فلکیاتی اصول 18 درجہ والے قول ہی کو راجح قرار دیتے ہیں۔

القانون المسعودی میں ہے:

"اما وقت الصبح فالعادة فيه جارية باستكمال الراحة والتهيئ للتصرف  فهم فيه منتظرون طليعة النهار لياخذوا في الانتشار ، فلذلك ظهر لهم هذا و خفي ذلك ، و بحسب الحاجة الي الفجر و الشفق رصد اصحاب هذه الصناعة امره فحصلوا من قوانين وقته ان انحطاط الشمس تحت الافق متي كان ثمانية عشر جزء كان ذلك وقت طلوع الفجر في المشرق و وقت مغيب الشفق في المغرب."

(المقالۃ الثامنۃ،باب ثالث عشر، ج:۲،ص:۳۳۷،دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100380

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں