بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1447ھ 10 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عیسائی وزیرِ اعظم خاتون کو مسجد کے صحن میں بٹھانے، مسلمان مردوں کے اس سے مصافحہ کرنے اور عورتوں کے مسجد آنے کے مطالبے کا شرعی حکم


سوال

میں بارباڈوس میں مقیم ہوں۔ یہاں کی کل آبادی تقریباً دو سے تین لاکھ ہے، جن میں سے تقریباً تین سے چار ہزار مسلمان ہیں، جبکہ باقی آبادی عیسائیوں پر مشتمل ہے۔ الحمد للہ! یہاں پانچ مساجد اور پانچ یا چھ مصلّے موجود ہیں۔ اس سال یہاں الیکشن (انتخاب) ہونے والا ہے۔ انتخابی تیاری کے سلسلے میں یہاں کی وزیرِ اعظم، جو ایک عورت ہیں، مسلمان ذمہ داران اور عوام سے ملاقات اور گفتگو کے لیے جمعہ کے روز، نمازِ جمعہ کے بعد، اپنی پارٹی کے ممبران کے ساتھ مسجد آئیں۔

نمازِ جمعہ کے بعد مسجد کی کمیٹی کے ممبران نے ان کے لیے مسجد سے متصل صحن میں بیٹھنے کا انتظام کیا تھا، اور یہ صحن مسجد کی شرعی حد میں داخل نہیں ہے۔ نماز کے بعد لوگ اس خاتون وزیرِ اعظم سے ملاقات بھی کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں چند مسائل میں آپ حضرات سے شرعی راہ نمائی مطلوب ہے:

1۔ کیا کمیٹی کے افراد کے لیے اس عورت اور اس کے عیسائی ممبران کے لیے مسجد کے صحن میں کرسیاں رکھوانا اور سیاسی میٹنگ منعقد کرنا درست ہے؟

واضح رہے کہ یہ صحن جماعت خانے کے بالکل متصل ہے، اور دونوں کے درمیان کوئی پختہ دیوار نہیں ہے، بلکہ لکڑی کی فینس کے ذریعے شرعی مسجد اور صحن کے درمیان حد قائم کی گئی ہے۔

2۔ لوگوں کا اس عورت سے مصافحہ کرنا کیسا ہے؟

3۔ یہاں کچھ عورتیں مسجد میں آنا چاہتی ہیں، لیکن مقامی علماء انہیں منع کرتے ہیں۔ ان عورتوں کا کہنا ہے کہ جب ایک عیسائی عورت آ سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں آ سکتیں؟ حالانکہ اس عیسائی عورت کو بھی مسجد کے شرعی جماعت خانے میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔ ایسی بات کہنے والوں کو کیا جواب دیا جائے؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں مسجدِ شرعی سے متصل مذکورہ صحن اگر واقعتاً مسجدِ شرعی کی حد میں داخل نہ ہو، یعنی تعمیرِ مسجد کے وقت یا بعد میں اسے مستقل طور پر مسجد میں شامل نہ کیا گیا ہو، تو اسلام و مسلمانوں کی سیاسی و اجتماعی مفاد کے پیشِ نظر بوقتِ ضرورت وہاں غیر مسلم افراد (خواہ عورت ہی کیوں نہ ہو) کے بیٹھنے کے انتظام کرنے اور ان سے سیاسی و انتخابی نوعیت کی گفتگو کی گنجائش ہے۔(1)

2۔ مردوں کا کسی نامحرم عورت سے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مصافحہ کرنا شرعاً جائز نہیں۔ اس سے مکمل اجتناب لازم ہے۔ الاّیہ کہ وہ عورت اتنی بوڑھی ہو  کہ اس سے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہو، تو بوقتِ ضرورت اس سے مصافحہ کرنے کی گنجائش  ہے۔(2)

3۔ اگر فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو تو پاکی کی حالت میں عورتوں کے لیے محض مسجد میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک و پاکیزہ دور میں خواتینِ اسلام کو تعلیمِ دین کی خاطر مساجد میں آنے کی اجازت تھی۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے اور اسلامی احکام کی تکمیل و تعلیم کا مقصد پورا ہو جانے کے بعد، جب عورتوں کے خروج کی ضرورت بھی باقی نہ رہی اور ماحول کے بگاڑ کی وجہ سے فتنہ کا اندیشہ پیدا ہو گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورتوں (خصوصاً جوان عورتوں) کو نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہونے سے منع فرمادیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کوئی اعتراض نہیں کیا، بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ حالت دیکھ لیتے جو عورتوں نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد) پیدا کر لی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ دیتے۔

بالخصوص فتنوں کے اس دور میں، فتنہ و فساد کے عموم کی بنا پر عورتوں کو مساجد میں جانے سے تاکیداً روکنا چاہیے؛ کیونکہ عورتوں کی مساجد میں حاضری کے فوائد اتنے نہیں جتنے اس کے نقصانات یقینی ہیں۔

لہٰذا فسادِ زمانہ کی وجہ سے عورتوں کا مساجد میں آنا مستحسن نہیں، اور اگر عورتیں نماز کے لیے مسجد میں آنا چاہیں تو انہیں روکنا چاہیے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے جہاں تک ممکن ہو مخفی مقام پر اور چھپ کر نماز پڑھنے کو پسند فرمایا، اور اسے ان کے لیے مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنے سے بھی زیادہ فضیلت اور ثواب کا باعث قرار دیا۔

غرض ایک عیسائی خاتون، وہ بھی اپنے ملک کی وزیرِ اعظم، کے آنے پر اس کے لیے مسجد کے صحن میں بیٹھنے کا انتظام کیے جانے کو بنیاد بنا کر مقامی عورتوں کا مسجد میں آنے کے لیے حیلے بہانے تلاش کرنا، اور روکنے پر اس خاتون کے معاملے کو جواز بنا کر منع کرنے والوں پر اعتراض کرنا بالکل غلط اور بے جا ہے۔ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ حکمِ شرع کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے۔ اسی میں ان کے لیے خیر و بھلائی ہے۔(3)

(1) مراسیلِ ابو داؤد میں ہے:

"عن الحسن، أن وفد ثقيف أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فضربت لهم قبة في مؤخر المسجد لينظروا إلى صلاة المسلمين، وإلى ركوعهم وسجودهم، فقيل: يا رسول الله أتنزلهم المسجد وهم مشركون؟ فقال: «‌إن ‌الأرض ‌لا ‌تنجس، إنما ينجس ابن آدم»."

(رقم الحديث:17، ص:80، ط:مؤسسة الرسالة، بيروت)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"اتفق الفقهاء على أن المراد بالمسجد الذي يصح فيه الاعتكاف، ما كان بناء معدا للصلاة فيه. أما رحبة المسجد، وهي ساحته التي زيدت بالقرب من المسجد لتوسعته، وكانت محجرا عليها، فالذي يفهم من كلام الحنفية والمالكية والحنابلة في الصحيح من المذهب أنها ليست من المسجد، ومقابل الصحيح عندهم أنها من المسجد، وجمع أبو يعلى بين الروايتين بأن الرحبة المحوطة وعليها باب هي من المسجد."

(لفظة:اعتكاف، ما يعتبر من المسجد وما لا يعتبر، ج:5، ص:224، ط:دارالسلاسل، الكويت)

(2) حدیث شریف میں ہے:

"عن أميمة بنت رقيقة ، قالت: «كنت فيمن بايع النبي صلى الله عليه وسلم، فأخذ علينا أن لا نسرق، الآية كلها، فقلنا: يا رسول الله، بايعنا، فقال: ‌إني ‌لا ‌أصافح ‌النساء، وقولي لامرأة واحدة كقولي لمائة امرأة»."

(‌‌مسند أبي داؤد الطيالسي، ما روت أميمة بنت رقيقة عن النبي صلى الله عليه وسلم، رقم الحدیث:1726، ج:3، ص:192، ط:دار هجر، مصر)

ترجمہ: ”حضرت اُمیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم چوری نہ کریں، اور سورۃ الممتحنہ آیت:12 کے تمام احکام پر عمل کریں۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں بیعت کر لیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، اور میری ایک عورت سے بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے سو عورتوں سے بات کرنا۔“

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"فمصافحة الرجل للمرأة العجوز التي لا تشتهي ولا تشتهى، وكذلك مصافحة المرأة للرجل العجوز الذي لا يشتهي ولا يشتهى، ومصافحة الرجل العجوز للمرأة العجوز، جائز عند الحنفية والحنابلة ما دامت الشهوة مأمونة من كلا الطرفين، واستدلوا بما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: كان يصافح العجائز، ولأن الحرمة لخوف الفتنة، فإذا كان أحد المتصافحين ممن لا يشتهي ولا يشتهى فخوف الفتنة معدوم أو نادر..... وأما مصافحة الرجل للمرأة الأجنبية الشابة فقد ذهب الحنفية والمالكية والشافعية والحنابلة في الرواية المختارة، وابن تيمية إلى تحريمها، وقيد الحنفية التحريم بأن تكون الشابة مشتهاة، وقال الحنابلة: وسواء أكانت من وراء حائل كثوب ونحوه أم لا."

(لفظة: مصافحة، المصافحة بين الرجل والمرأة، ج:37، ص:359، ط:مطابع دار الصفوة، مصر)

(3) حدیث شریف میں ہے:

"عن عبد الله بن سويد الأنصاري، عن عمته أم حميد امرأة أبي حميد الساعدي، أنها جاءت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، ‌إني ‌أحب ‌الصلاة ‌معك؟ قال: قد علمت أنك تحبين الصلاة معي، وصلاتك في بيتك خير لك من صلاتك في حجرتك، وصلاتك في حجرتك خير من صلاتك في دارك، وصلاتك في دارك خير لك من صلاتك في مسجد قومك، وصلاتك في مسجد قومك خير لك من صلاتك في مسجدي. قال: فأمرت فبني لها مسجد في أقصى شيء من بيتها وأظلمه، فكانت تصلي فيه حتى لقيت الله عز وجل."

(مسند الإمام أحمد بن حنبل، حديث أم حميد، رقم الحدیث:27090، ج:45، ص:37، ط:مؤسسة الرسالة بیروت)

ترجمہ: ”حضرت عبد اللہ بن سوید اپنی پھوپھی حضرت ام حمید رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک روز) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ اے اللہ کے  رسول! میں آپ کے ساتھ (یعنی آپ کی اقتداء میں) نماز پڑھنا پسند کرتی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہو، لیکن تمہاری نماز تمہارے گھر کے کوٹھری میں، تمہارے کمرے کی نسبت بہتر ہے، اور تمہاری نماز تمہارے کمرے میں، تمہارے گھر کے دوسرے حصّے صحن یا برآمدے کی نسبت بہتر ہے، اور تمہاری نماز تمہارے گھر میں، محلے کی مسجد سے بہتر ہے، اور تمہاری نماز محلے کی مسجد میں، میری مسجد (یعنی مسجدِ نبوی) سے بھی تمہارے لیے بہتر ہے۔

راوی کہتے ہیں کہ چنانچہ انہوں نے اپنے گھر کے سب سے اندرونی اور اندھیرے گوشے میں ایک جگہ نماز کے لیے مقرر کر لی، اور وہیں نماز پڑھتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملیں۔“

ایک دوسری حدیث میں ہے:

"عن ابن مسعود قال: ‌صلاة ‌المرأة ‌في ‌بيتها أفضل من صلاتها فيما سواه، ثم قال: إن المرأة إذا خرجت تشوف لها الشيطان."

(المصنف عبد الرزاق، كتاب الصلاة، باب شهود النساء الجماعة، رقم الحدیث:51 16، ج:3، ص:149، ط:المجلس العلمي الهند)

ترجمہ: ”حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کی نماز اس کے گھر میں، گھر سے باہر کسی بھی جگہ پڑھنے سے افضل ہے۔ پھر فرمایا کہ جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی طرف دیکھتا ہے۔“ (یعنی اسے لوگوں کے سامنے خوشنما بنا کر پیش کرتا ہے، اور اس کے ذریعے فتنہ پیدا کرتا ہے)

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌ولا ‌يباح للشواب منهن الخروج إلى الجماعات، بدليل ما روي عن عمر رضي الله عنه أنه نهى الشواب عن الخروج؛ ولأن خروجهن إلى الجماعة سبب الفتنة، والفتنة حرام، وما أدى إلى الحرام فهو حرام."

(كتاب الصلاة، فصل بيان من يصلح للإمامة في الجملة، ج:1، ص:157، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"وكره لهن حضور الجماعة إلا للعجوز في الفجر والمغرب والعشاء والفتوى ‌اليوم ‌على ‌الكراهة في كل الصلوات لظهور الفساد. كذا في الكافي وهو المختار. كذا في التبيين."

(كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة، ج:1، ص:89، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101427

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں