
میری اپنے سالے کے ساتھ گھر کے کرایہ کے بارے میں کچھ بحث اور تلخ کلامی ہوئی، مجھ کو غصہ آیا، میں نے اپنی بیوی ( سالے کی بہن ) کو طلاق دی، طلاق ایک مرتبہ دی، اور پھر تین چار دن گھر سے باہر گزارے، طلاق کے الفاظ یہ تھے " استا خور پہ ما طلاقہ دہ " ( تیری بہن مجھ پر طلاق ہے )، یہ الفاظ میں نے اپنے سالے سے کہے تھے، بیوی کو کچھ بھی نہیں کہا تھا۔
میرا سوال یہ ہے کہ ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور کیا مجھے اپنی بیوی سے رجوع کا حق حاصل ہے؟
جن الفاظ میں طلاق کا معنی صراحت کے ساتھ پایا جائے، ان الفاظ کے بولنے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، چاہے طلاق کے الفاظ بیوی سے کہے ہوں یا کسی اور سے کہے ہوں، اور خواہ بیوی کو طلاق کا علم ہو یا نہ ہو۔
لہذا صورت مسئولہ میں جب شوہر نے مذکورہ الفاظ ( استا خور پہ ما طلاقہ دہ ) اپنے سالے سے کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی،خواہ بیوی کو ان الفاظ کا علم نہ ہو، سائل کو اپنی بیوی سے عدت(تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور ماہواری آتی ہو،حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک کا عرصہ) کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، اگر شوہر نے عدت میں رجوع کرلیا تو نکاح بدستور برقرار رہےگا، لیکن آئندہ کے لیے سائل کو دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
اور اگر عدت کے اندر شوہر نےرجوع نہ کیا، اور عدت مکمل ہوگئی، تو اس صورت میں بیوی اپنے شوہر سے بائنہ ہوجائے گی، یعنی سائل اور بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گا،دوبارہ رجوع کرنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز."
(کتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح، ج: 1، ص: 354، ط: رشیدیة)
وفیہ ایضا:
"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص: 470، ط: رشیدیة)
وفیہ ایضا:
"(وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. وزوال حل المناكحة متى تم ثلاثا كذا في محيط السرخسي."
(کتاب الطلاق، الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، ج: 1، ص: 348، ط: رشیدية)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
"قال: (وله أن يتزوج مطلقته المبانة بدون الثلاث في العدة وبعدها) لأن حل المحلية باق إذ زواله بالثالثة ولم توجد، وإنما لا يجوز لغيره في العدة تحرزا عن اشتباه الأنساب وهو معدوم في حقه."
(کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج: 3، ص: 150، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101597
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن